رسائی کے لنکس

تحریک طالبان کےقاری حسین کا نام دہشت گردوں کی امریکی فہرست میں


تحریک طالبان کےقاری حسین کا نام دہشت گردوں کی امریکی فہرست میں

تحریک طالبان کےقاری حسین کا نام دہشت گردوں کی امریکی فہرست میں

امریکہ نے پاکستانی طالبان کے رہنما قاری حسین کا نام امریکہ کو مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرلیا ہے۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جمعرات کے روز جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان کے رہنما قاری حسین کا نام دہشت گردوں اور انہیں معاونت فراہم کرنے والے افراد کی امریکی فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے مطابق اس قدم کے بعد قاری حسین کو فنڈز کی فراہمی روکنے میں مدد ملے گی جبکہ امریکی باشندوں کے بھی اس کے ساتھ ہر قسم کا رابطہ کرنے پر پابندی ہوگی۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ قاری حسین ٹی ٹی پی کا اہم رہنما ہے اور تنظیم کی جانب سے خود کش حملہ آوروں کی تربیتی عمل کی نگرانی کے فرائض انجام دیتا ہے۔ بیان کے مطابق قاری حسین کے زیرِ انتظام چلنے والے خودکش حملہ آوروں کے تربیتی کیمپوں میں ہر عمر کے بمباروں کو تربیت فراہم کی جاتی ہے جبکہ اس کی جانب سے کم عمر بچوں کی بھی ایک بڑی تعداد کو اس مقصد کے لیے بھرتی کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے کئی خود کش حملوں کا ماسٹر مائنڈ ہونے کے علاوہ قاری حسین نے اردنی ڈبل ایجنٹ ہمام محمد ابو ملال البلاوی کو بھی تربیت فراہم کی تھی جس نے 30 دسمبر 2009 کو افغانستان کے صوبہ خوست میں واقع ایک امریکی فوجی بیس پر خودکش حملہ کرکے سات امریکیوں کو ہلاک کردیا تھا۔

اس سے قبل امریکہ تحریکِ طالبان پاکستان کو بھی غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرچکا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے اس اعلان کے بعد پاکستانی میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ قاری حسین پہلے ہی ایک ڈرون حملے میں مارا جاچکا ہے۔ پاکستانی میڈیا رپورٹس پر تبصرہ کرتے ہوئے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں شعبہ کاؤنٹر ٹیررازم کے ترجمان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ قاری حسین کی موت کی افواہیں گردش کرتی رہی ہیں اور کئی بار غلط ثابت ہوئیں ہیں۔ امریکہ کے نزدیک قاری حسین ٹی ٹی پی کا ایک سرگرم رکن ہے اور اسی لیے اسے دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG