رسائی کے لنکس

ٹیلی کام سیکٹر کی چکاچوند: موبائل صارفین کی تعداد 10 کروڑ ہوگئی


فائل فوٹو۔ اسلام آباد، پاکستان میں لوگ فری موبائل فون کنکشن کے لیے ایک موبائل فون کمپنی کے آفس میں قطار بنائے کھڑے ہیں۔

فائل فوٹو۔ اسلام آباد، پاکستان میں لوگ فری موبائل فون کنکشن کے لیے ایک موبائل فون کمپنی کے آفس میں قطار بنائے کھڑے ہیں۔

پاکستان کے جس شعبے میں انقلاب کی نوید صاف سنائی دے رہی ہے وہ ہے ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر!! یہ سیکٹر اسی اور نوے کی دہائی تک اس قدر پسماندہ تھا کہ نیا فون کنکشن لینے کے لئے کئی سال پہلے درخواست دینا پڑتی تھی اور بسا اوقات تو درخواست دینے والا فون کے انتظار میں ہی اس دنیا سے رخصت ہوجاتا تھا۔ مگر آج ایسا بالکل نہیں ۔۔ بلکہ آج صورتحال یکسر مختلف ہے ۔ آج ایک گھر میں اگر پانچ افرادہیں تو موبائل فونز کی تعداد بھی اتنی ہی ہوتی ہے۔ اور اگر گھر میں لینڈ لائن فون ہو تو یہ تعداد اہل خانہ کی تعداد سے بھی زیادہ ہوجاتی ہے۔ کم ازکم کراچی ،لاہوراور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں تو صورتحال ایسی ہی ہے۔

پھر فون کے "رسیا " افراد کا یہ حال ہے کہ انہوں نے بیک وقت دو دو موبائل سم رکھی ہوئیں ہیں۔ کچھ لوگ تو یہ حد بھی عبور کرگئے ہیں۔ انہوں نے ہر فون کمپنی کی ایک سم رکھی ہوئی ہے۔ جس آدمی کے پاس جو سم ہوتی ہے وہ اسی کمپنی کی سم فون میں لگا کر بات کرتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ نیٹ ورک سیم ہونے سے پیسے کی بچت ہوتی ہے۔

یہ تمام باتیں ٹیلی کام سیکٹر میں انقلاب کی نوید ہیں۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی یعنی پی ٹی اے کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں اس وقت موبائل فون صارفین کی تعداد 10 کروڑ سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ ملک کی آبادی 17 کروڑ ہے۔ اگر ہر شخص کے پاس ایک یا دو موبائل بھی ہوں تو ملک میں ابھی سات سے 14کروڑ نئے صارفین کی گنجائش موجود ہے۔

پی ٹی اے کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ٹیلی کام سیکٹر میں مجموعی طور پر گیارہ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ہے جبکہ اس مدت میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم چھ اعشاریہ تین ارب ڈالر رہا۔

مالی سال دوہزار نو- دس کے دوران ٹیلی کام سیکٹر میں مجموعی طور پر ایک اعشاریہ ایک تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی جس میں سے 37 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ہوئی۔

پی ٹی اے کی رپورٹ میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ تھری جی ٹیکنالوجی کے اجزاء سے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق پانچ سالوں میں متحدہ عرب امارات اس سیکڑ میں دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ سرفہرست رہا۔ امریکا 89جبکہ ناروے 63 کروڑو نوے لاکھ ڈالر کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہے جبکہ چین نے اس شعبے میں 58کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری کی ہے۔

پاکستان میں اس وقت پانچ بڑی موبائل کمپنیاں کام کررہی ہیں جن کی ترتیب ان کے صارفین کی تعداد کے لحا ظ سے کی گئی ہے ۔سب سے زیادہ صارفین رکھنے والی کمپنی موبی لنک ہے جبکہ دوسرے نمبر پر یوفون، تیسرے پر وارد، چھوتھے پر ٹیلی نار اور پانچ پر زونگ ہے۔ یوفون پی ٹی سی ایل کی ذیلی کمپنی ہے۔ وارد یو اے ای ، ٹیلی نار ناروے اور زونگ چائنا موبائل کمپنی سے تعلق رکھتی ہے۔

اگرچہ زونگ اپنے عالمی صارفین کی تعداد کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی موبائل کمپنی ہے تاہم یہ پاکستان میں سب سے آخر میں آئی اس لئے اس کا نمبر آخری ہے ۔

پاکستان میں اس وقت کچرا اٹھانے والے سے لیکر گدھا گاڑی چلانے والے تک اور ایک عام دکاندار سے ملٹی بلین بزنس مین اور ہر پیشے سے وابستہ مردو خواتین اور یہاں تک کہ اسکول جانے والے بچوں تک کے پاس موبائل کی سہولت موجود ہے۔

اسی قدر 'گنجان رجحان' کودیکھتے ہوئے ایک ایک کمپنی نے اپنے اپنے صارفین کو بیک وقت کئی کئی سہولیات اور پیکیجز دے رکھے ہیں اور کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب کوئی نہ کوئی نیا پیکیج یا پروموشنل اسکیم متعارف نہ ہوتی ہو۔ کمپنی ٹو کمپنی سہولتیں اور پیکیجز فراہم کرنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ پھر سیکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں مفت ایس ایم ایس کی سہولت، رات کے وقت نرخوں میں نصف تک کمی، اور ایسی ہی سینکڑوں دلکش سہولیات سے ٹیلی کام سیکٹر کو کروڑوں روپے کی آمدنی ہوئی ہے۔

ان فون کمپنیوں کے بیش بہا منافع کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اب ٹی وی، اخبارات، رسائل و جرائد، بینرز، انٹرنیٹ ، ریڈیو، بل بورڈز، پمفلٹس، بجلی و گیس کے بل، ڈائجسٹ، مجلے، نیون سائن، شہروں اور دیہاتوں کی دیواریں، بلند و بالا عمارات کی چھتیں، ریلوے اسٹیشنز، بس اسٹاپس، ویگینں۔۔۔ سب کے سب موبائل فون کمپنیوں کے تشہیر کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔ کرکٹ میچ ہو یا کوئی اور ایونٹ یہی کمپنیاں اسپانسر کرنے میں پیش پیش نظر آتی ہیں۔ ۔۔ اب وہ زمانے ہوا ہوئے جب الیکٹرونک میڈیا پر کنزیومر پروڈکٹس کی اجارہ داری ہوتی تھی۔ اب تو ساراوقت موبائل کمپنیوں نے خرید لیا ہے۔

عالم یہ ہے کہ اس وقت ایک ایک کمپنی کے دس دس اشتہارات چل رہے ہیں اور بے حساب چل رہے ہیں۔ سارے کے سارے گھنٹے انہی کمپنیوں کے خریدے ہوئے لگتے ہیں۔ پھر یہ ایڈ دس پندرہ دن سے زیادہ نہیں چل پاتے کہ ان کی جگہ دوسرے ایڈ لے لیتے ہیں چونکہ اس مدت میں کمپنی نئے پیکیجز یا نئی اسکیمیں متعارف کرادیتی ہے جس کے لئے نئے اشتہارات تو لازمی ہی ہیں۔ اگر کسی ایک بھی موبائل کمپنی کا تشہیری بجٹ دیکھ لیا جائے تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہیں۔

بڑی بڑی رقموں کی چکاچوند میں ایک ناختم ہونے والی دوڑ ٹیلی کام سیکٹر کو جگمگا رہی ہے۔ ثبوت کے لئے کسی بھی گلی محلے، بازار اور جگہ کو دیکھ لیجئے ہر جگہ موبائل اسپانسرز مل جائیں گے ۔ حالات گواہ ہیں کہ ملک میں ایک روٹی کی قیمت سات روپے اور موبائل کال ایک روپے سے بھی سستی ہے ۔

غضبناک صورتحال یہ ہے کہ آج ہی کسی غیر ملکی سروے میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کی اکثریت قبر میں بھی موبائل فون اپنے ساتھ رکھنے کو ترجیح دے رہی ہے۔ اگر پاکستان میں بھی یہ رجحان چل نکلا تو وہ دن دور نہیں جب جنازے کے پیچھے پیچھے بھی موبائل کمپنی کے تشہیری پلے کارڈنظر آنے لگیں گے۔

XS
SM
MD
LG