رسائی کے لنکس

فلم کے تقاضوں کو نبھانے کے لئے پاکستان فضائیہ اور مریم مختیار کی فیملی سے خصوصی اجازت لی گئی تھی۔ فلم سچی کہانی ہے جسے فلم کے قالب میں ڈھالا گیا ہے۔ ’ایک تھی مریم‘ کی شوٹنگ رسالپور ضلع میانوالی اور کراچی میں کی گئی ہے۔ فلم کی تکمیل میں دو ہفتے لگے

’ایک تھی مریم‘ فرائض کی انجام دہی کے دوران طیارہ تباہ ہونے سے جاں بحق ہونے والی پاکستان کی پہلی خاتون فائٹر پائلٹ مریم مختیار کی زندگی پر مبنی ہے۔ اسے منگل کو یومِ دفاع کے حوالے سے ٹی وی سے نشر کیا گیا۔

پاکستانی فضائیہ کی پائلٹ مریم مختیار کا طیارہ گزشتہ سال نومبر میں گر کر تباہ ہوگیا تھا۔ مریم مختیار پر بنائی گئی 80 منٹ دورانیے کی ٹیلی فلم ’ایک تھی مریم‘ کو سرمد کھوسٹ نے ڈائرکٹ کیا۔ فلم میں ٹی وی آرٹسٹ اور ہوسٹ صنم بلوچ نے مریم مختیار کا کردار ادا کیا اور خوب کیا۔

فلم میں مریم مختیار کے ڈیوٹی کے دوران پیش آنے والے آخری دن، آخری واقعے اور زندگی کی آخری جھلک کو پیش کیا گیا ہے۔

سرمد کھوسٹ کا کہنا ہے کہ ’’میرے نزدیک یہ صرف وطن کے لئے جان قربان کرنے والی بہادر لڑکی کی کہانی نہیں، بلکہ ایک امید ہے۔ یہ خوابوں کو پانے کی کہانی ہے۔ پاکستان میں ہیروز کی کمی نہیں اور ہمیں ان ہیروز کو بھرپور انداز میں سراہنا چاہئیے۔‘‘

’ایک تھی مریم‘ کی شوٹنگ رسالپور ضلع میانوالی اور کراچی میں کی گئی ہے۔ فلم کی تکمیل میں دو ہفتے لگے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر سید نبیل جعفری نے بتایا ’’ فلم کے تقاضوں کو نبھانے کے لئے پاکستان فضائیہ اور مریم مختیار کی فیملی سے خصوصی اجازت لی گئی تھی۔ فلم سچی کہانی ہے جسے فلم کے قالب میں ڈھالا گیا ہے۔‘‘

مریم مختیار کا طیارہ میانوالی کے علاقے کندیاں کے قریب 24 نومبر2015 کو گر کر تباہ ہوگیا تھا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG