رسائی کے لنکس

کراچی میں پچھلے ایک ہفتے میں سیکڑوں افراد کو ہلاک کرنے والی گرمی میں کچھ کمی آرہی ہے، ساتھ ہی گرمی سے ہونے والی ہلاکتوں میں بھی کمی آئی ہے لیکن اب بھی لوگ گرمی اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔

کراچی میں گرمی سے ہونے والی اموات اور اس پر سرکاری ردِ عمل کا جائزہ لینے کے لیے وزیرِاعظم میاں نواز شریف بھی پیر کو ایک روزہ دورے پر کراچی پہنچ رہے ہیں۔

کراچی کے جناح ہسپتال میں شعبۂ حادثات کی سربراہ ڈاکٹر سیمی جمالی نے 'وائس آف امریکہ' سے بات کرتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ شہر میں درخت لگائیں تاکہ اگر خدا نخواستہ پھر کبھی کراچی میں ایسی گرمی کا حملہ ہو تو لوگ ان درختوں کی بدولت گرمی سے بچ سکیں۔

ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا تھا کہ پچھلے ایک ہفتے میں ان کے پاس بہت بڑی تعداد میں گرمی کا شکار ہونے والے مریض آئے تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ زیادہ تر متاثرین کا تعلق غریب گھرانوں سے تھا اور ان میں بے گھر افراد کی ایک بڑی تعداد بھی شمال تھی۔

ڈاکٹر سیمی جمالی نے بتایا کہ اب جبکہ شہر میں سمندری ہوا چل پڑی ہے، گرمی، مریضوں کی تعداد اور اموات میں واضح کمی آئی ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اتوار کو بھی شہر کے مختلف ہسپتالوں میں گرمی سے پیدا ہونے والے مسائل سے تقریبا دو درجن افراد ہلاک ہوگئے جبکہ مختلف ہسپتالوں میں اب بھی درجنوں ا فراد زیر علاج ہیں۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ طویل لوڈ شیڈنگ اور پانی کی کمی نے گرمی کو اور بھی ناقابل برداشت بنا دیا ہے۔

کراچی میں گرمی سے ہونے والی اموات شروع ہوتے ہی دعووں اور الزامات کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا تھا۔ سندھ کی صوبائی حکومت کراچی کو بجلی فراہم کرنے والی نجی کمپنی 'کے-الیکٹرک' اور وفاقی حکومت کو ذمہ دار ٹہرا رہی ہے، وفاق صوبے کو ذمہ دار قرار دیتا ہے، بجلی کی ترسیل کے منتظم ادارے 'نیپرا' نے ساری ذمہ داری گرمی پر ڈال دی ہے لیکن تجزیہ کاروں کا سوال ہے کہ اس ساری صورت حال سے حکومت، انتظامیہ، سول سوسائٹی اور شہریوں نے کیا سیکھا؟ اور اگر پھر کراچی پر ایسی ہی گرمی کا حملہ ہوا تو کیا نتائج مختلف ہونگے؟

XS
SM
MD
LG