رسائی کے لنکس

ہمسایہ ممالک سے تعلقات میں کشیدگی سے پاک افغان تجارت متاثر

  • عشرت سلیم

پاک افغان سرحد

پاک افغان سرحد

پاک افغان تجارتی تعلقات میں پیش رفت نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ پاکستان کے بھارت کے ساتھ تعلقات میں تناؤ بھی ہے۔ پاکستان سکیورٹی تحفظات کے باعث افغانستان کو پاکستان کے راستے بھارت سے تجارت کی اجازت دینے سے گریزاں ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان طے پانے والے ایک اہم تجارتی معاہدے پر عمل درآمد مسلسل تاخیر کا شکار ہے، جس سے تجارتی راوبط بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

چاروں طرف سے خشکی سے گرے افغانستان کو بین الاقوامی تجارت کے لیے اپنے ہمسایہ ممالک کے زمینی اور بحری راستوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

کئی دہائیوں سے افغانستان کی بیشتر تجارت پاکستان کے ذریعے ہوتی رہی ہے، تاہم حالیہ برسوں میں بعض پیچیدہ قوانین، انتظامی دشواریوں اور سامان تجارت پر زیادہ سفری لاگت کے باعث افغان تاجروں نے ایران کا رخ کیا ہے۔

گزشتہ برس نومبر میں صدر اشرف غنی کے دورہ پاکستان کے موقع پر دونوں ممالک نے تجارتی روابط کے فروغ پر اتفاق کیا تھا اور اس پر کچھ پیش رفت بھی ہوئی تھی مگر حالیہ ہفتوں میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں کشیدگی سے پیدا ہونے والے ماحول کے تجارت پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔

گزشتہ ماہ کابل میں پے در پے طالبان حملوں کے بعد صدر اشرف غنی نے ان کا الزام پاکستان میں چھپے شدت پسندوں پر عائد کیا تھا جس کے بعد سفارتی تعلقات میں تناؤ دیکھا گیا۔

پاکستان اور افغانستان کے مشترکہ چیمبر برائے صنعت و تجارت کے پاکستان چیپٹر کے سربراہ محمد زبیر موتی والا نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ سیاسی ماحول سے تجارت کو بہت نقصان پہنچا ہے۔

’’میرے ہم منصب افغانستان چیپٹر کے صدر خان جان الکوزئی نے مجھے کل ایک پریس ریلیز بھیجی ہے، جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کم ہو رہی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ 40 فیصد کم ہو رہی ہے۔ میرا نہیں خیال اتنا کم ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سیاسی ماحول میں تیزی سے بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ الکوزئی صاحب کا کہنا ہے کہ افغان نوجوان پاکستان میں بنی چیزیں لینے سے کترا رہے ہیں۔ یہ انتہائی خراب بات ہے جس کا پاکستان اور پاکستانی برآمدات پر طویل المعیاد اثر ہو گا۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ دو ہزار کلومیٹر سے زائد طویل سرحد کے ہوتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان غیر قانونی تجارت کو روکنا ممکن نہیں اس لیے کسٹم ڈیوٹی کے ڈھانچے میں تبدیلی ضروری ہے، تاکہ اسمگلر غیر قانونی طور پر پاکستان میں فروخت کے لیے لائی جانے والی اشیا سے منافع نہ کما سکیں۔

ان کے بقول تجارتی شراکت دار کی حیثیت سے ہماری تجارت کا حجم بہت کم ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان سالانہ تجارت کا حجم ڈھائی ارب ڈالر بتایا جاتا ہے جب کہ اتنا ہی حجم غیر قانون تجارت کا ہے جسے قانون کے دائرے میں لانے سے پاکستان کے کئی معاشی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

پاک افغان تجارتی تعلقات میں پیش رفت نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ پاکستان کے بھارت کے ساتھ تعلقات میں تناؤ بھی ہے۔ پاکستان، بھارت کے افغانستان سے تعلقات کے حوالے سے شدید خدشات رکھتا ہے۔ افغانستان کی خواہش ہے کہ پاکستان کے راستے بھارت سے تجارت کرے مگر پاکستان سکیورٹی تحفظات کے باعث اس کی اجازت دینے سے گریزاں ہے۔

زبیر موتی والا کہتے ہیں کہ پاک افغان تجارتی تعلقات کمزور ہونے کی وجہ سے دوسرے ممالک فائدہ اٹھا رہے ہیں جن میں ایران بھی شامل ہے۔

’’اس وقت ان کی چین اور ترکی سے درآمدات بڑھی ہیں۔ اور سب سے زیادہ بھارت کو فائدہ ہے۔ بھارت افغانستان کو حاصل کرنے کے لیے ہر طرح کا کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ اتنے چھوٹے سے ملک افغانستان میں بھارت کے کئی قونصل خانے ہیں۔ اور جس طرح کی مدد اور جس طرح کی دوستی کرنے کے وہ خواہاں ہیں افغانستان سے تو میں سمجھتا ہوں کہ سب سے بڑا فائدہ اٹھانے والا ملک بھارت ہی ہے۔‘‘

مئی میں پاکستان کے وفاقی وزیر برائے تجارت خرم دستگیر خان نے کہا تھا کہ افغانستان کو پاکستان کے راستے تجارت میں سہولت دینے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں، جس سے توقع ہے کہ اس شعبے میں دوطرفہ تعاون کو وسعت ملے گی۔ مگر سیاسی ماحول میں بہتری کے بغیر تجارتی تعلقات میں بہتری ہونے کا امکان کم ہے۔

XS
SM
MD
LG