رسائی کے لنکس

بھارت سے تعلقات میں شدید کشیدگی، پاکستانی کابینہ کا اجلاس طلب


فائل فوٹو

فائل فوٹو

سرجیکل اسٹرائیک کی خبر آنے کے بعد بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں پانچ سو پوائنٹس کی کمی ہوئی جب کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی ایسی ہی صورتحال دیکھنے میں آئی۔

بھارت کے ساتھ تعلقات میں شدید تناؤ اور جمعرات کو کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر بھارتی فورسز کی فائرنگ سے دو پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت سے پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے وفاقی کابینہ کا اجلاس جمعہ کو طلب کیا ہے۔

سرکاری بیان کے مطابق اجلاس کے ایجنڈے میں کشمیر کی صورتحال سرفہرست ہوگی جب کہ وزارت داخلہ و خارجہ کے عہدیدار شرکا کو ملک کی داخلی و خارجی صورتحال سے آگاہ کریں گے۔

جمعرات کو ہی وزیراعظم نواز شریف اور بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے درمیان فون پر بات ہوئی اور اس میں بھی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بھارتی کشمیر کے علاقے اوڑی میں ہونے والے مشتبہ دہشت گرد حملے کے بعد سے شدید کشیدہ ہو چلے تھے لیکن جمعرات کو بھارتی فوج کے ایک اعلیٰ عہدیدار کی طرف سے یہ دعویٰ کہ ان کی فورسز نے لائن آف کنٹرول کے پار پاکستانی کشمیر میں "سرجیکل اسٹرائیک" کی ہے، صورتحال کو مزید برانگیخت کر گیا۔

گو کہ پاکستان نے فوری طور پر سرجیکل اسٹرائیک کے بھارتی دعوے کو مسترد کر دیا لیکن اس سے دونوں ملکوں کے بازار حصص پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔

اس خبر کے بعد ممبئی اور کراچی میں اسٹاک مارکیٹس میں اچانک منفی رجحان دیکھنے میں آیا۔

جمعرات کو کاروباری دن کا آغاز تو دونوں اسٹاک ایکسچینجز میں بہتری سے ہوا لیکن سرجیکل اسٹرائیک کی خبر آنے کے بعد بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں پانچ سو پوائنٹس کی کمی ہوئی جب کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی ایسی ہی صورتحال دیکھنے میں آئی۔

پاکستان کی ایک معروف کاروباری شخصیت ہارون اگر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ جمعرات کو بازار حصص میں آنے والی مندی سے شیئر ہولڈرز کو اربوں روپے کا نقصان ہوا اور یہ صورتحال دونوں ملکوں کے لیے ٹھیک نہیں ہوگی۔

"ایک پوائنٹ دو کروڑ کا ہوتا ہے تو پھر آپ جمع کریں لیں کہ 65 پوائنٹس کی کمی سے کیا ہوا ہوگا۔یہ صورتحال کسی کے لیے بھی ٹھیک نہیں ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری رک جائے گی جب جنگ کی بات ہو تو استحکام متاثر ہوتا ہے اور دونوں ملک اقتصادی طور پر مشکل میں آ جائیں گے۔"

ان کا کہنا تھا کہ کاروباری حلقے یہ توقع کر رہے ہیں کہ یہ کشیدہ صورتحال زیادہ عرصے تک نہیں چل سکے گی۔

"ہم توقع رکھتے ہیں کہ (جنگ) نہیں ہوگی کیونکہ دونوں ملک یہ سمجھتے ہیں کہ اگر یہ ہوگی تو یہ دونوں کے لیے خراب ہوگا اور بھارت کے لیے زیادہ خرابی آئے گی کیونکہ بھارت بڑا ملک ہے۔۔۔اس پر زیادہ اثر پڑے گا۔"

ہارون اگر کہتے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور یہ کشیدگی بات چیت کے ذریعے ہی ختم کی جا سکتی ہے۔

پاک بھارت حالیہ کشیدگی کے اثرات دو طرفہ سماجی حلقوں میں بھی دیکھنے میں آچکے ہیں۔ بھارت میں بعض انتہا پسند تنظیموں کی طرف سے پاکستانی فنکاروں کو ملک چھوڑنے کا کہا گیا جب کہ پاکستان میں بعض حلقے ملک کے سینما گھروں میں بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں۔

اسی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان نے آئندہ ماہ نئی دہلی میں ہونے والی ایک تجارتی نمائش بھی منسوخ کر دی تھی۔

XS
SM
MD
LG