رسائی کے لنکس

پاکستان اور بھارت کی جانب سے ایک دوسرے پر فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے والی ’لائن آف کنڑول‘ پر پاکستانی اور بھارتی فورسز کے درمیان فائرنگ و گولہ باری کا تبادلہ گزشتہ چند روز کے دوران وقفے وقفے سے جاری رہا اور اس دوران اطلاعات کے مطابق دونوں جانب آٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

پاکستانی فوج کے مطابق کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب بھارتی سرحدی افواج کی فائرنگ و گولہ باری سے ایک خاتون سمیت دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جب کہ کئی گھروں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

جب کہ بھارتی فوج کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی اہلکاروں کی طرف سے بالاکوٹ اور پونچھ سیکٹرز میں فائرنگ سے اس کے چھ شہری ہلاک ہوئے۔

پاکستان اور بھارت کی جانب سے ایک دوسرے پر فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

سرحد پر اس حالیہ کشیدگی کی وجہ سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک بار پھر تناؤ کا شکار ہیں۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے اسلام آباد میں تعینات بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔

جب کہ بھارت نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کو طلب کر کشمیر میں ہونے والی ہلاکتوں پر احتجاج کیا۔

معروف تجزیہ کار حسن عسکری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 2012ء کے اواخر سے دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

اُن کے بقول مقامی سرحدی کمانڈروں کے درمیان ملاقات کے مروجہ طریقہ کار پر عمل کر کے کشیدگی کو کم کیا جا سکتا ہے۔

’’اب مسئلہ یہ ہے کہ کشیدگی کو حل کرنے کے لیے جو طریقہ کار ہے دونوں ممالک ان پر عمل نہیں کر رہے ہیں۔ مقامی کمانڈر کی میٹنگ ہے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن کے درمیان فون پر بات چیت ہے وہ بھی اب نہیں ہو رہی ہے اس کا مطلب ہے کہ کشیدگی کو حل کرنا جو طریقہ کار ہے وہ بھی اس وقت معطل ہے۔‘‘

لائن آف کنڑول پر تناؤ میں ایک ایسے وقت اضافہ ہو رہا ہے جب جب پاکستانی وزیراعظم کے مشیر برائے امورخارجہ اور قومی سلامتی سرتاج عزیز اپنے بھارتی ہم منصب سے بات چیت کے لیے 23 اگست کو بھارت جائیں گے۔

گزشتہ ماہ روس کے شہر اوفا میں پاکستان اور بھارتی کے وزرائے اعظم کے درمیان ہونے والی ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ سرحدوں پر کشیدگی اور دہشت گردی کے معاملات سے جڑے اُمور پر بات چت کے لیے دونوں ملکوں کے مشیر برائے قومی سلامتی ملاقات کریں گے۔

XS
SM
MD
LG