رسائی کے لنکس

'انسداد دہشت گردی کے لیے باہمی اعتماد کے ساتھ تعاون ضروری'


پاکستانی مشیر خارجہ سرتاج عزیز

افغان صدر اشرف غنی نے ایک بیان میں کہا کہ ان تازہ حملوں میں ملوث عناصر مبینہ طور پر پاکستان میں "رہتے، لوگوں کو بھرتی کرتے اور آزادانہ طور پر سرگرم ہیں اور پاکستان نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔"

پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی دہشت گردی پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے اور اس مشترکہ دشمن کا مقابلہ باہمی اعتماد کے ساتھ کی جانے والی مربوط کوششوں سے ہی ممکن ہے۔

یہ بات انھوں نے پیر کو اسلام آباد میں افغانستان کے سفارتخانے کے دورے کے موقع پر کہی جہاں وہ گزشتہ ہفتے مختلف افغان شہروں میں ہونے والے مہلک دہشت گرد حملوں میں جانی نقصان پر پاکستانی حکومت اور عوام کی طرف سے اظہار تعزیت کے لیے گئے تھے۔

گزشتہ ہفتے کابل، قندھار اور ہلمند میں ہونے والے بم حملوں میں پچاس سے زائد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے اور مرنے والوں میں متحدہ عرب امارات کے پانچ سفارتکار بھی شامل تھے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق پاکستانی مشیر خارجہ نے دہشت گردی کے خلاف افغان حکومت اور عوام کے ساتھ پاکستان کے تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔

سرتاج عزیز کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ماضی کی طرح ایک بار پھر افغانستان نے ان حملوں کا الزام پاکستان میں موجود عسکریت پسندوں پر عائد کیا۔ اسلام آباد ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

حملوں میں ملوث عناصر کا پاکستان میں موجودگی کا دعویٰ

پیر کو ہی افغان صدر اشرف غنی نے ایک بیان میں کہا کہ ان تازہ حملوں میں ملوث عناصر مبینہ طور پر پاکستان میں "رہتے، لوگوں کو بھرتی کرتے اور آزادانہ طور پر سرگرم ہیں اور پاکستان نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔"

افغان صدر اشرف غنی (فائل فوٹو)
افغان صدر اشرف غنی (فائل فوٹو)

افغان صدارتی محل سے جاری بیان کے مطابق صدر غنی نے یہ بات اتوار کو پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے گفتگو میں کہی جنہوں نے دہشت گرد واقعات میں ہونے والے نقصانات پر تعزیت کے اظہار کے لیے افغان راہنما کو فون کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ (دہشت گردوں سے) نمٹنے میں ہچکچاہٹ اور کارروائی نہ کرنے کی صورت میں پاکستان اور خطے کے لیے بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔

اس ٹیلی فون کال کے بارے میں پاکستانی فوج کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ جنرل باجوہ نے افغان صدر کو بتایا تھا کہ ان کی افواج نے پاکستانی سرزمین سے دہشت گردوں کی تمام پناہ گاہوں کو ختم کر دیا ہے لیکن دہشت گردوں کی سرحد کے آر پار نقل و حرکت کو روکنے کے لیے سرحد کی موثر نگرانی اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور تعاون کو موثر بنانے کی ضرورت ہے۔

بیان کے مطابق پاکستانی سپہ سالار کا کہنا تھا کہ الزام تراشی سے خطے میں امن کے "دشمن عناصر" کو تقویت ملتی ہے۔

دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت ضروری

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں 2014ء میں صدر اشرف غنی کے اقتدار میں آنے کے بعد ماضی کی نسبت کچھ بہتر آئی تھی لیکن یہ پیش رفت دیرپا ثابت نہ ہو سکی۔

ایک روز قبل ہی پاکستان کے نجی ٹی وی چینل "ڈان نیوز" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں امن کے لیے پاکستان سنجیدہ کوششیں کرتا آیا ہے لیکن ان کے بقول امن عمل کے لیے افغانستان میں اتفاق رائے کی کمی ہے۔

افغان طالبان جنجگو (فائل فوٹو)
افغان طالبان جنجگو (فائل فوٹو)

"افغانستان میں بھی کوئی اتفاق رائے نہیں کہ طالبان سے لڑنا چاہیے یا بات چیت کرنی چاہیے اور طالبان میں بھی اتفاق رائے نہیں ہے کچھ گروپ لڑنا چاہتے ہیں اور کچھ بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔۔۔ہم تو تیار ہیں کہ یہ امن عمل چلے کیونکہ اس کے بغیر امن نہیں آسکتا۔"

سینیئر تجزیہ کار ڈاکٹر اے زیڈ ہلالی کہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان عدم اعتماد کی وجہ سے تعلقات میں پیش رفت نہیں ہو رہی اور اسی بنا پر خطے میں امن بھی متاثر ہو رہا ہے۔

"کابل اگر پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے تو وہ اسلام آباد کے تحفظات کو بھی ذہن میں رکھے اپنی ترجیحات کو بھی ذہن میں رکھے اور میرا خیال ہے کہ اتنا مشکل نہیں ہے تعلقات کو اچھی سمت میں لے کر جانا، میرا خیال ہے کہ خطے کے وسیع تر مفاد میں اور افغانستان کے مفاد میں ہے کہ وہ پاکستان سے تعلقات اچھے رکھے۔

پاکستان کا موقف رہا ہے کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان خود اس کے مفاد میں ہے اور وہ جنگ سے تباہ حال اس ملک میں قیام امن کے لیے افغانوں کی زیر قیادت اور افغانوں کی شمولیت سے ہونے والی ہر کوشش کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔

XS
SM
MD
LG