رسائی کے لنکس

پاکستان میں انسانی حقوق متاثر ہوئے: رپورٹ

  • عشرت سلیم

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز بھی دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں اور 2003 سے 2014 تک پاکستان میں 6,005 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

امریکہ کے محکمہ خارجہ نے اپنی ایک رپورٹ میں دنیا کے متعدد ممالک بشمول پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انسانی حقوق سے متعلق سالانہ عالمی رپورٹ میں پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ دہشت گردی اور اس کے انسداد کے لیے جاری کارروائیوں کی وجہ سے ملک میں انسانی حقوق شدید متاثر ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں ملک کے مختلف حصوں، بالخصوص وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا)، کراچی اور بلوچستان میں جاری تشدد کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اس سے ناصرف عام شہریوں کی جان و مال کو خطرہ لاحق ہے بلکہ دہشتگردوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں سے بھی شہریوں کے حقوق متاثر ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان آپریشنز میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی بھی اطلاعات ہیں جبکہ بعض اوقات ایسی اطلاعات بھی ملیں کہ سکیورٹی فورسز نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوائے کارروائیاں کی ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے دوران اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ عام شہریوں کو کوئی نقصان نا پہنچے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امن عامہ کی خراب صورتحال، سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کی دہشت اور شورش زدہ علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی اجازت کے بغیر داخلہ ممنوع ہونے کے باعث ان علاقوں میں انسانی حقوق کے کارکن اور ذرائع ابلاغ کے نمائندے سرکاری فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی ممکنہ خلاف ورزیوں کے اطلاع نہیں دے سکتے۔

"ساؤتھ ایشیا ٹیررازم پورٹل" کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے چاروں صوبوں اور فاٹا میں گزشتہ برس دہشت گرد حملوں اور ان کے خلاف کیے جانے والے سکیورٹی آپریشنز میں 5,496 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 1781 عام شہری، 533 سکیورٹی اہلکار اور 3,182 دہشت گرد یا باغی تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز بھی دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں اور 2003 سے 2014 تک پاکستان میں 6,005 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں پاکستان کی اقلیتوں پر شدت پسندوں کے حملوں کا بھی ذکر ہے۔

پاکستان کی طرف سے باضابطہ طور پر اس رپورٹ پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق اور قانون و انصاف کے چیئرمین چوہدری محمود بشیر ورک نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی یہ کوشش ہے کہ ملک میں انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

رپورٹ میں ایک اور اہم مسئلے کی نشاندہی کی گئی ہے کہ شدت پسند ناصرف لڑکوں اور لڑکیوں کے اغوا میں ملوث ہیں بلکہ وہ والدین کو جھوٹے وعدوں کے ذریعے زبردستی اپنے 12 سال تک کے کم عمر بچوں کو جاسوسی، لڑائی یا خود کش دھماکوں میں استعمال کے لیے انہیں سونپنے پر مجبور کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG