رسائی کے لنکس

اتحادی افواج دہشت گردوں کے خلاف افغانستان سے باہر کارروائی کریں: حامد کرزئی


افغان صدر حامد کرزئی نے پڑوسی ملک پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی کے سلسلے میں مغربی اتحادیوں کی رضامندی پر سوال اٹھایا ہے۔

مسٹر کرزئی نے جمعرات کے روز کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ افغانستان کے گھروں اور بستیوں میں نہیں ہے، بلکہ ان پناہ گاہوں اور تربیتی مراکز میں ہے جو ملک سے باہر واقع ہیں۔

افغان لیڈر نے کابل میں اخباری نمائندوں کو بتایا کہ صرف بین الاقوامی افواج ہی ایسی باغی قوتوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

صدر کرزئی نے یہ بیان ویب سائٹ وکی لیکس کی جانب سے امریکی فوج کی ان ہزاروں خفیہ دستاویزات جاری کیے جانے کے بعد دیا ہے جن میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی افغانستان کے طالبان عسکریت پسندوں کے ساتھ سرگرمی سے سازباز کررہی ہے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے مسٹرکرزئی کے بیان کو ناقابل فہم قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کابل میں پاکستان کے سفیر اس سلسلے میں وضاحت طلب کررہے ہیں۔

انہوں نے اس جانب توجہ دلائی کہ پڑوسی ممالک دہشت گردی کے خلاف قریبی تعاون کررہے ہیں۔

ادھر افغان صدر کے ترجمان صادق صدیق نے کہا ہے کہ کابل میں ہونے والی آج کی پریس کانفرنس میں صدر حامدکرزئی کے بیان کو غلط طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ صدر نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ افغانستان کی بستیوں اور گھروں میں نہیں ہے، اور بین الاقوامی کمیونٹی کو افغان سرحدوں سے باہر ان کی پناہ گاہوں اور تربیتی مراکز کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ نیوز ایجنسی رائیٹرز کی یہ خبر اس مسئلے پر صدر کرزئی کا نقطہ نظر صحیح طورپر پیش نہیں کرتی کہ افغان صدر کرزئی نے کہا تھا کہ اتحادی افواج پاکستان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کررہیں۔

XS
SM
MD
LG