رسائی کے لنکس

دہشت گردی کے خاتمے کےلیےصرف فوجی کارروائی کافی نہیں : تجزیہ کار


دہشت گردی کے خاتمے کےلیےصرف فوجی کارروائی کافی نہیں : تجزیہ کار

دہشت گردی کے خاتمے کےلیےصرف فوجی کارروائی کافی نہیں : تجزیہ کار

’جب فوج ایک مرتبہ یہ ماحول پیدا کردیتی ہے، دہشت گردوں سےنمٹ لیتی ہے اور اُس علاقے کو کافی حد تک صاف کرلیتی ہے، تو پھر کام سول انتظامیہ کا ہے کہ اچھی، صاف ستھری، مضبوط عملداری لائی جائے۔ تاکہ، انصاف ہو، جِس میں لوگوں کے مسائل حل ہوں اور ساتھ ساتھ اُس میں فوج وہاں بیٹھ کر تھوڑی تقویت دے اور جب سول انتظامیہ کے پیر جم جائیں اور عوام خود بھی اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہوجائیں تو پھر وہ امن دیرپا ہوتا ہے، مستقل ہوتا ہے‘

سوات میں انتہا پسندانہ نظریات کی حوصلہ شکنی کے لیے کیے جانے والے سہ روزہ سمینار کے اختتام پر پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کا کہنا تھا کہ صرف فوجی کارروائی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کافی نہیں ہے، اِس کے لیے، تمام عناصر کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

پاکستان کے سابق وزیرِ داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر نے بدھ کو’ وائس آف امریکہ‘ سےگفتگو میں کہا کہ فوج سازگار ماحول تو پیدا کرسکتی ہے ،لیکن اُسے دیرپہ بنانے کے لیے حکومت اور سوسائٹی کو بھی آگے آنا ہوگا۔

معین الدین حیدر کا کہنا تھا کہ جب فوج ایک مرتبہ یہ ماحول پیدا کردیتی ہے، دہشت گردوں سےنمٹ لیتی ہے اور اُس علاقے کو کافی حد تک صاف کرلیتی ہے، تو پھر کام سول انتظامیہ کا ہے کہ اچھی، صاف ستھری، مضبوط عملداری لائی جائے، تاکہ انصاف ہو جس میں لوگوں کے مسائل حل ہوں اور ساتھ ساتھ اُس میں فوج وہاں بیٹھ کر تھوڑی تقویت دے اور جب سول انتظامیہ کے پیر جم جائیں اور عوام خود بھی اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہوجائیں تو پھر وہ امن دیرپہ ہوتا ہے، مستقل ہوتا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز اسلام آباد میں ریسرچ فیلو، ڈاکٹر شاہینہ اختر، جنرل (ر) معین الدین حیدر کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ حقیقت اپنی جگہ کہ ہمیں مل کر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے، مگر اِس کے ساتھ ساتھ ہمیں اُن عوامل کا سراغ لگانے کی ضرورت ہے جو اُس سوسائٹی میں انتہا پسندی کو فروغ دے رہے ہیں۔

ڈاکٹر شاہینہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی معاشرے اور اُس کے اداروں کے لیے خطرے کاباعث ہے، جِس سے نمٹنے کے لیے یکسوئی اور اتفاقِ رائے سے وضع کی گئی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جو حکومت، عوام اور اداروں میں ہونا لازم ہے۔

اُن کے بقول، جب تک متفقہ طرزِ عمل نہیں اپنایا جائے گا، بات نہیں بنے گی۔ بلکہ، ایک مربوط حکمتِ عملی درکار ہے جو دہشت گردی کے سرطان کے عوامل، عناصر و اسباب پر کڑی نظر رکھے اور اِس کے فروغ سے نبردآزما ہونے میں معاون بنے۔

دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے کردار اور گذشتہ کچھ عرصے سے مغربی دنیا کے تحفظات پر بات کرتے ہوئے، لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر کا کہنا تھا کہ اصل بات عمل درآمد کی ہے۔

اُن کے الفاظ میں: ’اگر پاکستان فوج نے 5000جانوں کی قربانی پیش کی ہے اور 10000سے زائد لوگ زخمی ہوئے ہیں، سوات خالی ہوکر دوبارہ امن قائم ہو چکا ہے، جنوبی وزیرستان میں فوج نے دوبارہ سے شرپسند نکال لیے ہیں اور وہاں پھر سے لوگ واپس ہو کر آباد ہوگئے ہیں اور فوج اب کرم ایجنسی چلی گئی ہے۔ کیا یہ اِس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ یہ قربانیاں پیش کی جارہی ہیں اور دور دراز علاقوں میں حکومت کی عمل داری بحال کر رہے ہیں۔ کیا کسی کو کہنے کی ضرورت ہے کہ ہم اتنے سنجیدہ نہیں ہیں؟‘

دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے، ڈاکٹر شاہینہ اختر نے مغربی دینا پر زور دیا کہ اُنھیں پاکستان کے مسائل کو سمجھتے ہوئے، جاری جنگ میں اُن کا بھرپور ساتھ دینا چاہیئے۔

ڈاکٹر شاہینہ نے کہا کہ پاکستان اور پاکستانی عوام اور ملک کی سکیورٹی فورسز نے اتنی قربانیاں دی ہیں کہ اُس پر کسی شک و شبہے کی گنجائش نہیں رہتی۔

اُنھوں نے کہا کہ ضرورت اِس بات کی ہے کہ پاکستان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اُن کے بقول، دراصل پاکستان دنیا کے امن کی جنگ لڑ رہا ہے، کیونکہ دہشت گردی کا صرف پاکستان کو ہی نہیں بلکہ پورے خطے اور تمام دنیا کو سامنا ہے۔

ڈاکٹر شاہینہ نے کہا کہ اِس کام میں، ضرورت اِس بات کی تھی کہ پاکستان اور اُس کے اداروں پر اعتماد کیا جاتا، کیونکہ شک شبہے کی جگہ، پاکستان اخلاقی، سیاسی اور ٹھوس حمایت کا حقدار ہے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG