رسائی کے لنکس

دہشت گردوں کو پیسے کی ترسیل روکنے کی کوششوں میں کامیابی

  • مل ارسیگا

دہشت گردوں کو پیسے کی ترسیل روکنے کی کوششوں میں کامیابی

دہشت گردوں کو پیسے کی ترسیل روکنے کی کوششوں میں کامیابی

امریکہ پر دہشت گردوں کے نائن الیون کے حملوں کی دسویں برسی کے پروگراموں میں ہم آج دہشت گردی کے خلاف ایک پوشیدہ جنگ کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ یہ وہ جنگ ہے جو اسلحہ سے اور جان کی قربانیاں د ے کر نہیں، بلکہ دہشت گردی کے لیے پیسے کی فراہمی کو روک کر لڑی جا رہی ہے۔

جرائم کے خلاف لڑنے والے جانتے ہیں کہ مجرموں کو پکڑنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ پیسے کی ترسیل کا سراغ لگایا جائے۔ نیو یارک اور واشنگٹن پر دہشت گردوں کے حملوں کے بعد ایک نئی قسم کی جنگ شروع ہوئی۔ یہ وہ جنگ ہے جو نگرانی کرنے والے کیمروں اور کمپیوٹر ڈیٹا بیس کے ذریعے لڑی جا رہی ہے۔

میتھیو لیویٹ واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ میں انسدادِ دہشت گردی اور انٹیلیجنس پروگرام کے ڈائرکٹر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کئی ملکوں میں پھیلے ہوئے خطرات کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کو ختم کرنا ہمارے دشمنوں کی سرگرمیوں میں خلل ڈالنے کا موثر طریقہ ہے۔‘‘

نائن الیون کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ دہشت گرد اپنے حملے محض اپنے نظریے کے زور پر شروع نہیں کرسکتے۔ امریکی انٹیلی جنس نے دستیاب اطلاعات اور ڈیٹا کی چھان بین شروع کر دی۔ انھوں نے سفر کی تفصیلات، الکٹرانک پیغامات اور پیسے کی ترسیل کی جانچ کی۔ میتھیو نے کہا کہ ’’اگر آپ مجھے پیسہ بھیجتے ہیں تو اس کا کوئی مطلب نکلتا ہے۔ ضروری نہیں کہ اس کا مطلب یہ ہو کہ آپ اہم ہیں یا میں اہم ہوں، لیکن ہماری وساطت سے کوئی ایسا کام ہو رہا ہے جو زیادہ اہم ہے۔ آپ پیسے کی اس ترسیل کا مطالعہ کر سکتےہیں اور بالآخر یہ پتہ چلا سکتےہیں کہ یہ پیسہ کہاں سے آیا اور کہاں جا رہا ہے۔‘‘

امریکہ نے اس مقصد کے لیے محکمۂ خزانہ میں ایک نئی ایجنسی قائم کی۔ کونسل آن فارن ریلیشنز کے اسٹارٹ لیوی محکمۂ خزانہ کے ٹیرازم اینڈ فنانشل انٹیلیجنس سیکشن کے سابق سربراہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’

دنیا میں یہ سب سے پہلی اور واحد وزارتِ مالیات ہے جس میں انٹیلیجنس کا پورا آفس قائم ہے۔ لیکن اس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ مالیاتی انٹیلی جنس بہت زیادہ قابلِ اعتماد ہوتی ہے۔‘‘

اس ایجنسی کو پتہ چلا ہے کہ 9/11 کے حملوں میں استعمال ہونے والا پیسہ جو تقریباً پانچ لاکھ ڈالر بنتا ہے یورپ اور مشرق وسطیٰ کے بینکوں کے ذریعے ہائی جیکروں تک پہنچایا گیا تھا جو امریکہ میں انتظار کر رہے تھے۔

ان اطلاعات کا کچھ حصہ برسلز میں قائم بینکوں کے کنسورشیم سوسائٹی فار ورلڈ وائیڈ انٹرنیٹ فنانشل ٹیلی کمیونیکیشن یا (SWIFT) کے ذریعے ملا۔ اسٹارٹ لیوی کہتے ہیں کہ ’’میں جس ڈیٹا بیس کی بات کر رہا ہوں وہ ہم نے پرائیویٹ سیکٹر کی ایک کمپنی سے جو پیغامات بھیجنے کی خدمات فراہم کرتی ہے عدالتی حکم کے ذریعے حاصل کیا تھا۔‘‘

ان ڈیٹابیسس کو استعمال کرتے ہوئے امریکی حکومت نے ایسے گروپوں اور افراد کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم دیا جن کے دہشت گردوں کے ساتھ روابط کا علم تھا۔ اس ڈیٹا بیس کے ذریعے القاعدہ کے کارندوں کوبھی پکڑا گیا۔

ان میں حمبالی بھی شامل تھا جو 2002ء میں بالی کے تفریحی مقام پر بمباری کے حملوں کا سرغنہ تھا۔ لیکن حکومت کے مالیاتی معلومات حاصل کرنے کے اختیارات سے نجی امور میں مداخلت اور اختیارات کے غلط استعمال کے بارے میں تشویش بھی پیدا ہوئی۔ اسٹارٹ لیوی کہتے ہیں کہ ’’لوگوں نے سوچا کہ ہم ان تمام معلومات کی چھان بین کر رہے ہیں اور جو بھی ہمارے جی میں آتا ہے کر رہے ہیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے بہت سخت ضابطے بنا رکھے تھے۔‘‘

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے بڑی کامیابی گذشتہ مئی میں ہوئی جب امریکی کمانڈوز نے پاکستان میں ایک پرائیویٹ کمپاؤنڈ میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کر دیا۔ امریکی عہدے دار کہتے ہیں کہ اس چھاپے کے دوران جو معلومات حاصل ہوئیں ان سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ القاعدہ کو مالی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ اسٹارٹ لیوی کہتے ہیں کہ ’’اسامہ بن لادن کی شخصیت سحر انگیز تھی۔ وہ فنڈز جمع کرنے نئے لوگ بھرتی کرنے اور تنظیم میں اتحاد برقرار رکھنے کے لیے اہم تھا۔ لہٰذا اس کی ہلاکت القاعدہ کے خلاف جنگ میں یہ ایک زبردست کارنامہ ہے۔ لیکن اس طرح خطرہ ختم نہیں ہوا ہے۔‘‘

اس کی وجہ یہ ہے کہ دہشت گرد گروپ مسلسل اپنے طریقے بدلتے رہتے ہیں۔ بعض گروپ مجرمانہ سرگرمیوں جیسے منشیات کی اسمگلنگ اور اغوا کی وارداتوں کے ذریعے اپنی کارروائیوں کے لیے پیسہ جمع کرتے ہیں۔ اور جب پیسہ ختم ہونے لگتا ہے تو وہ نسبتاً چھوٹے حملے کرنے لگتے ہیں جن پر کم پیسہ خرچ ہوتا ہے۔

دہشت گردوں کی کارروائیوں کا سائز کچھ ہی کیوں نہ ہو میتھیو کہتے ہیں کہ پیسے کی ترسیل کا سراغ لگانا مفید ثابت ہوتا ہے۔ ’’یہ صحیح ہے کہ بعض حملوں میں پیسہ بہت کم لگتا ہے لیکن یہ مفروضہ صحیح نہیں ہے کہ چونکہ دہشت گردی کا حملہ کم خرچ ہے اس لیے پیسے کی فراہمی کا سراغ لگانا بے کار ہے۔ اصل با ت اس کے برعکس ہے۔ اگر دہشت گردوں کو پانچ ہزار ڈالر کی ضرورت ہے تو یہ کوئی بڑی رقم نہیں ہے لیکن اگر وہ پانچ ہزار ڈالر حاصل نہیں کر سکتے تو جیت تو ہماری ہی ہوتی ہے۔‘‘

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دہشت گردی کے حملے ختم ہو جائیں گے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف کئی محاذوں پر جنگ کے لیے جس میں پیسے کی ترسیل کو روک دیا جائے اور اس کے ساتھ ہی ایسے نظریے کی بیخ کنی کی جائے جس کے پیرو اندھا دھند غارتگری پر تلے ہوئے ہیں مسلسل چوکنا اور پُر عزم رہنے اور برسوں تک دنیا کے تعاون کی ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG