رسائی کے لنکس

افغانستان، پاکستان میں بعض عناصر کی طرف سے دہشت گردوں کی مالی اعانت جاری: رپورٹ

  • عشرت سلیم

امریکی محکمہ خزانہ کی رپورٹ میں کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ تنظیم جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن نامی خیراتی اداروں کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے اندر سے مالی اعانت حاصل کرتی ہے۔

امریکہ کے محکمہ خزانہ نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں بعض عناصر کی مجرمانہ سرگرمیوں اور نجی عطیات کے ذریعے بڑے پیمانے پر دہشت گردی کی مالی اعانت جاری ہے۔

یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب گزشتہ ہفتے ہی پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے واشنگٹن میں اعلیٰ امریکی عہدیداروں سے دہشت گردوں کی مالی اعانت روکنے کے لیے امریکہ کے تعاون پر بات چیت کی۔

اس رپورٹ میں دنیا بھر میں دہشت گردوں کی مالی اعانت کا جائزہ پیش کیا گیا ہے جس میں پاکستان، افغانستان، مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے علاوہ جنوبی امریکہ کے ممالک میں ایسی سرگرمیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

’ٹیررسٹ فنانسنگ رسک اسسیسمنٹ 2015‘‘ نامی رپورٹ میں کہا گیا ہے دہشت گرد اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، منشیات فروشی اور دیگر جرائم سے پیسا اکٹھا کرنے کے علاوہ نجی عطیات اور خیراتی اداروں کے غلط استعمال اور ریاستی پشت پناہی کے ذریعے اپنے اخراجات پورے کرتے ہیں۔

رپورٹ میں حقانی نیٹ ورک کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ یہ افغانستان اور پاکستان میں کاروبار، سمگلنگ، بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کے ذریعے رقوم اکٹھی کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق القاعدہ کئی برس تک خلیجی ممالک کے علاوہ پاکستان اور ترکی میں مقیم اپنے خیر خواہوں اور خیراتی اداروں سے مالی اعانت حاصل کرتی رہی۔

امریکی محکمہ خزانہ کی رپورٹ میں کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ تنظیم جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن نامی خیراتی اداروں کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے اندر سے مالی اعانت حاصل کرتی ہے۔

لشکر طیبہ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ جنوبی ایشیا میں ناصرف مغربی مفادات کے خلاف حملے کر چکی ہے بلکہ پاکستانی اور مغربی شدت پسندوں کو تربیت بھی فراہم کرتی ہے جو لشکر طیبہ کی قیادت کی ہدایات کے بغیر مغربی ممالک میں حملوں کی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں۔

محکمہ خزانہ کے بقول دیگر دہشت گرد تنظیموں کی طرح لشکر طیبہ نجی عطیات اور کاروباری سرگرمیوں سے رقوم حاصل کرتی ہے۔ سال میں دو مرتبہ، رمضان کے موقع پر صدقہ اور زکوٰۃ اور عید الاضحیٰ کے موقع پر جانوروں کی کھالوں کی فروخت سے اسے سب سے زیادہ رقوم حاصل ہوتی ہیں، جن کی مالیت لاکھوں ڈالر میں ہوتی ہے۔

رپورٹ میں افغانستان میں منشیات کی تیاری اور فروخت سے حاصل ہونے والی رقوم کا بھی حوالہ دیا گیا۔ منشیات کے ایک عالمی سمگلر حاجی باغچہ گل کو 2012 میں امریکہ میں ہیروئن سمگل کرنے اور اس سے حاصل والی رقوم طالبان کو فراہم کرنے کے الزام میں عمر قید سزا سنائی گئی۔

یہ افغان شخص پاکستان کی سرحد پر واقع خفیہ لیبارٹریوں میں ہیروئن تیار کرتا تھا اور دنیا کی ایک بڑی ہیروئن سمگلنگ تنظیم چلاتا تھا جو امریکہ سمیت 20 سے زائد ملکوں میں ہیروئن سمگل کرتی۔ اس سے حاصل ہونے والی رقوم کو افغانستان میں طالبان کے اعلیٰ عہدیداروں کی اعانت کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

پاکستان کے سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ دہشت گردی کی کارروائیاں مالی اعانت کے بغیر نہیں کی جا سکتیں اور یہ مسئلہ صرف پاکستان کو در پیش نہیں۔

’’ہم منی لانڈرنگ کے انسداد کے لیے قانون لے آئے ہیں۔ جہاں بھی یہ قانون لاگو ہو سکتا ہے وہاں کرنا چاہیئے اور ایسے افراد کے خلاف ایکشن ہونا چاہیئے۔‘‘

پاکستان میں انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل میں دہشت گردوں کی مالی اعانت کی روک تھام سے متعلق نکات شامل ہیں۔ تاہم پاکستانی عہدیدار یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس شعبے میں قابل ذکر پیش رفت نہیں کی جا سکی کیونکہ بڑے پیمانے پر رقوم کی ترسیل کی نگرانی انتہائی مشکل کام ہے۔

واضح رہے کہ حال ہی میں پاکستانی فوج کے سربراہ نے کہا تھا کہ منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث عناصر اور دہشت گردوں کے درمیان گٹھ جوڑ کو توڑا جائے گا۔ پاکستانی حکام یہ بھی تسلیم کر چکے ہیں کہ منشیات کی پیداوار اور فروخت میں ملوث عناصر ملک کی قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

پاکستان کے عسکری کمانڈروں اور حکومت کی عہدیداروں کی طرف سے بارہا یہ بیانات سامنے آتے رہے ہیں کہ براہ راست دہشت گردی ملوث عناصر کے علاوہ اُن کے معاونین اور اُنھیں مالی اعانت فراہم کرنے والوں کا بھی پیچھا کیا جا رہا ہے۔

گزشتہ سال افغانستان نے بھی دہشت گردوں کی مالی اعانت روکنے سے متعلق ایک قانون منظور کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG