رسائی کے لنکس

امریکی پادری ٹیری جونز کے برطانیہ داخلے پر پابندی

  • عادل زیب

امیریکی پادری ٹیری جونز، درمیان میں

امیریکی پادری ٹیری جونز، درمیان میں

برطانوی وزارتِ خارجہ نے مفادِ عامہ کےلیے متنازع امریکی پادری ٹیری جونز کے برطانیہ میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

متنازع پادری رواں سال فروری میں ‘انگلینڈ اِز اَورز’ نامی دائیں بازو کے برطانوی گروپ کی دعوت پر برطانیہ آنے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن برطانوی وزارتِ خارجہ کے اعلان کے مطابق اُن کی برطانیہ آمد پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

اِس سلسلے میں جاری کیے گئے وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق برطانوی حکومت ہر قسم کی انتہا پسندی کی مخالفت کرتی ہے اور ٹیری جونز کی برطانیہ آمد سے کمیونٹیز میں اشتعال پیدا ہونے کا خطرہ تھا۔

اُدھر برطانوی اپوزیشن لیبر پارٹی نے حکومت کے حالیہ فیصلے کو سراہتے ہوئے اِس کی حمایت کی ہے۔ وائس آف امریکہ سے بات چیت کرتے ہوئے لیبر پارٹی کے رہنما اور رکنِ پارلیمنٹ خالد محمود نے کہا کہ وہ صرف ایک پروپیگنڈہ کرنے والا شخص ہے۔

برطانیہ میں مقیم مسلمانوں نے بھی متنازع عیسائی پادری کی آمد پر پابندی عائد کرنے کا خیر مقدم کیا ہے۔ ایک انٹرویو میں جمیعت علمائے برطانیہ کے سربراہ مفتی محمد اسلم نے پادری ٹیری جونز کے برطانیہ داخلے پر لگنے والی پابندی کو نیک شگون قرار دیا ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق دائیں بازو کے گروپ ‘انگلش ڈفنس لیگ’ اور خود پادری ٹیری جونز نے بھی برطانوی حکومت کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG