رسائی کے لنکس

اس فرانسیسی شہری کا مجرمانہ ماضی تھا اور وہ منشیات اور ڈکیتی سے متعلق جرائم میں ملوث رہ چکا تھا۔

پیرس کے ایک ہوائی اڈے پر ہلاک کیا گیا مشتبہ انتہا پسند منشیات کے زیر اثر تھا اور اس نے اورلی ہوائی اڈے پر ایک خاتون پولیس اہلکار سے اسلحہ چھیننے کی کوشش سے قبل شراب بھی پی رکھی تھی۔

ہفتہ کو اس شخص کو اسلحہ چھیننے کی کوشش کے دوران وہاں موجود سکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا اور اس کی شناخت 39 سالہ زید بن بلغیم سے کی گئی۔

پیرس پراسیکوٹرز کے دفتر نے اتوار کو بتایا کہ پوسٹ مارٹم کے ایک حصے کے طور پر کیے گئے ٹوکسیکالوجی ٹیسٹس سے زید کے خون میں کوکین اور کینابس کے اثرات ملے جب کہ مرنے سے قبل شراب بھی پی رکھی تھی جس کی مقدار اعشاریہ 93 گرام فی لیٹرخون پائی گئی جو کہ فرانس میں شراب پی کر ڈرائیونگ کرنے کی مقررہ مقدار سے دو گنا زیادہ تھی۔

اس فرانسیسی شہری کا مجرمانہ ماضی تھا اور وہ منشیات اور ڈکیتی سے متعلق جرائم میں ملوث رہ چکا تھا۔

استغاثہ کے دفتر کے عہدیدار فرانسس مولنز نے بتایا کہ ہفتہ کو علی الصبح وہ پیرس کے نواح میں ایک ریسٹورنٹ پر جس کے چار گھنٹوں بعد اس نے ٹریفک پولیس کی طرف سے روکے جانے پر گولی چلائی۔ پھر اس کے 90 منٹ کے بعد وہ پیرس کے دوسرے بڑے ہوائی اڈے 'اورلی ایئرپورٹ' پر افراتفری کا باعث بنا۔

اس نے ہوائی اڈے پر شور مچایا کہ وہ اللہ کے لیے جان لینا اور جان دینا چاہتا ہے اور وہاں موجود خاتون سکیورٹی اہلکار سے بندوق چھیننے کی کوشش کی لیکن دیگر دو فوجیوں نے اسے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔

اتوار کو ریڈیو یورپ ون سے گفتگو میں زید کے والد نے بتایا کہ وہ شراب پیتا تھا اور نام کا مسلمان تھا۔

"میرا بیٹا دہشت گرد نہیں تھا۔ اس نے کبھی نماز نہیں پڑھی، وہ شراب پیتا تھا۔ لیکن شراب اور نشے کے زیر اثر ایسا ہی ہوتا ہے جو کہ ہوا۔''

زید کے والد، بھائی اور کزن کو پولیس نے ہفتہ کو تحویل میں لے کر پوچھ گچھ کے بعد رہا کر دیا تھا۔

پراسیکیوٹر مولنز کے مطابق زید نے ٹریفک پولیس کے اہلکار پر فائرنگ کے بعد اپنے والد کو فون کر کے بتایا کہ اس سے بڑی غلطی ہوگئی ہے۔

اس پر زید کے والد نے یورپ ون کو بتایا کہ "اس نے مجھے صبح سات یا آٹھ بجے فون کیا۔ وہ بہت غصے میں تھا یہاں تک کہ اس کی ماں کو بھی اس کی کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ اس نے مجھے بتایا کہ میں آپ سے معافی چاہتا ہوں میں نے ایک پولیس اہلکار سے جھگڑا کر لیا ہے۔"

زید کے فلیٹ کی تلاشی کے دوران پولیس نے وہاں سے کوکین بھی برآمد کی۔

اس کے بارے میں مولنز نے بتایا کہ وہ 2011 اور 2012 کے دوران تحویل میں لیے جانے کے دوران انتہا پسندی کی طرف راغب ہوا تھا۔ نومبر 2015ء میں پیرس میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد متعدد بار اس کے گھر کی تلاشی بھی لی گئی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG