رسائی کے لنکس

تھائی لینڈ میں 96 احمدی پناہ گزین حکومتی حراست سے رہا


تھائی لینڈ میں 96 احمدی پناہ گزین حکومتی حراست سے رہا

تھائی لینڈ کے حکام نے ایک مسلم اقلیتی فرقے سے تعلق رکھنے والے 96 افراد کو چھ ماہ حراست میں رکھنے کے بعد رہا کردیا ہے۔

مذہبی امتیاز کی وجہ سے احمدیہ فرقہ سے تعلق رکھنے والے یہ افراد پاکستان سے فرار ہوکر تھائی لینڈ پہنچے تھے۔ دو افراد کے علاوہ گروپ کے باقی تمام ارکان کو اقوامِ متحدہ کی جانب سے "پناہ گزین" کی حیثیت دے دی گئی تھی۔

پناہ گزینوں کے اس گروپ میں 12 سال سے کم عمر کے 34 بچے بھی شامل ہیں جنہیں پولیس نے گزشتہ سال دسمبر میں گرفتار کیا تھا۔

پناہ گزینوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے مطابق احمدیہ فرقہ سے تعلق رکھنے والے ان افراد کی رہائی ان تنظیموں اور تھائی لینڈ کے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی کوششوں سے عمل میں آئی ہے جن کی جانب سے ان افراد کی ضمانت پر رہائی کے لیے رقم اکٹھی کرنے کی غرض سے ایک فنڈ قائم کیا گیا تھا۔

تنظیموں کے مطابق مذکورہ تمام 96 افراد اس وقت تک دارالحکومت بنکاک میں آزادانہ زندگی گزاریں گے جب تک اقوامِ متحدہ کا پناہ گزینوں سے متعلق ادارہ کسی تیسرے ملک میں ان کے قیام کا بندوبست نہیں کرلیتا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق تھائی لینڈ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں گرفتارشدگان کو ایک ساتھ سرکاری تحویل سے رہا کیا گیا ہے۔ ان افراد کی رہائی کے لیے تھائی لینڈ کی سول سوسائٹی کی جانب سے کی جانے والی جدوجہد کی بھی ملکی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

پناہ گزینوں کی رہائی کے لیے جمع کی جانے والی رقم کا انتظام گزشتہ سال عمل میں آنے والی 'تھائی کمیٹی فار ریفیوجیز' نامی تنظیم نے کیا تھا ۔

واضح رہے کہ احمدیہ فرقہ کو انڈونیشیا میں بھی مذہبی تفریق کا سامنا ہے۔ رواں سال فروری میں مسلم انتہاپسندوں کے ہاتھوں تین احمدی افراد کی ہلاکت کے بعد انڈونیشیا کے تین صوبوں میں مذکورہ فرقہ کے عقائد کے کھلے عام پرچار پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔

XS
SM
MD
LG