رسائی کے لنکس

تھائی لینڈ: مظاہرین کا احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ


انتخابات کے نتائج ابھی کئی ہفتوں تک متوقع نہیں اور جیتنے والی جماعت اُس وقت تک حکومت نہیں بنا سکے گی جب تک اُن حلقوں میں بھی ووٹنگ نا کروا لی جائے جہاں یہ عمل روکا گیا تھا۔

تھائی لینڈ میں حکومت مخالف مظاہرین نے اتوار کو ہوئے انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ وزیراعظم ینگ لک شیناوترا کی حکومت کا تختہ اُلٹنے کے لیے مزید مظاہرے جاری رکھیں گے۔

ملک میں حزب مخالف کی ’ڈیموکریٹ پارٹی‘ نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا جب کہ ووٹنگ کے عمل میں خلل ڈالتے ہوئے بعض انتخابی حلقوں میں ووٹروں کو پولنگ اسٹیشنز میں داخلے سے روکنے کے واقعات بھی سامنے آئے۔

مظاہرین نے پیر کو کہا کہ انتخابات کو منسوخ کروانے کے لیے کئی سطحوں پر کوششیں جاری رکھیں جن میں قانونی چارہ جوئی کا راستہ بھی شامل ہے۔

انتخابات کے نتائج ابھی کئی ہفتوں تک متوقع نہیں اور جیتنے والی جماعت اُس وقت تک حکومت نہیں بنا سکے گی جب تک اُن حلقوں میں بھی ووٹنگ نا کروا لی جائے جہاں یہ عمل روکا گیا تھا۔

انتخابات کے بعد بھی بے یقینی کی صورت حال پر وزیراعظم ینگ لک شیناوترا نے کہا کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کے حل کا صحیح راستہ ووٹ ہی سے ممکن ہے۔

تھائی لینڈ میں گزشتہ نومبر سے حکومت مخالف مظاہروں کا آغاز ہوا اور اس کی وجہ وزیراعظم ینگ لک کے بھائی تھاکسن شیناواترا کی ملک میں واپسی اور اُنھیں بدعنوانی کے مقدمات میں استثنیٰ دینے کے لیے متعارف کرایا جانے والا ایک مسودہ قانون تھا۔ تاہم اس بل کو سینیٹ نے مسترد کر دیا تھا۔

وزیراعظم ینگ لک نے مظاہروں کے بعد دسمبر میں پارلیمنٹ تحلیل کر کے دو فروری کو انتخابات کا اعلان کیا تھا جب کہ اُنھوں نے ملک میں اصلاحات کے لیے انتخابات کے بعد ایک کونسل کی تشکیل کا بھی اعلان کیا تھا۔

تھائی لینڈ میں فوج نے گزشتہ 81 سالوں کے دوران 18 مرتبہ اقتدار سنھبالا تھا، موجودہ حالات کے بارے میں فوج کا کہنا ہے کہ وہ اُس وقت تک سیاسی صورت حال میں مداخلت نہیں کرے گی جب تک ایسا کرنا انتہائی ناگزیر نا ہو۔
XS
SM
MD
LG