رسائی کے لنکس

جنرل پرایوتھ نے خبردار کیا کہ اگر سیاسی مظاہروں میں اضافہ ہوتا ہے تو ان کے پاس طاقت استعمال کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہو گا۔

تھائی لینڈ کی نظام حکومت پر قبضہ کرنے والی فوج کے سربراہ جنرل پرایوتھ چن اوچا نے کہا کہ بادشاہ نے ان کے بطور فوجی کونسل کے سربراہ کے عہدے کی توثیق کر دی ہے۔ اب یہ کونسل ملک کا نطم و نسق چلائے گی۔

ٹی وی پر نشر ہونے والی ایک پریس بریفنگ میں پیر کو جنرل پرایوتھ نے خبردار کیا کہ اگر سیاسی مظاہروں میں اضافہ ہوتا ہے تو ان کے پاس طاقت استعمال کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہو گا۔

جنرل پرایوتھ نے کہا کہ ان کا مقصد جلد از جلد انتخابات کا انعقاد ہے لیکن اس بارے میں انھوں نے کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔

پرایوتھ نے پریس بریفنگ اس وقت اچانک ختم کر دی جب ایک رپورٹر نے ان سے سوال پوچھ لیا۔

پرایوتھ کے طرف سے یہ اعلان فوجی رہنماؤں کی طرف سے مظاہرین کو خبردار کرنے کے ایک دن بعد آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ فوج کے اقتدار پر قبضے کے خلاف مزید مظاہرے برداشت نہیں کیے جائیں گے۔

یہ انتباہ اتوار کو فوجیوں اور ملک بھر میں مظاہرین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے بعد سامنے آیا۔

فوجی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ مظاہرین کو گرفتار کر کے جیل میں بند کر دیا جائے گا اور ان کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

پرایوتھ کے خود کو ملک کا وزیراعظم مقرر کرنے کے اعلان کے ایک روز بعد ہفتہ کو منتخب سینٹ کو تحلیل کر دیا تھا۔

فوج کے سربراہ نے کہا کہ یہ اقدام ملک میں امن وامان کو بحال کرنے اور ملک میں سیاسی اصطلاحات کے لیے ضروری تھا۔

تھائی لینڈ میں فوجی بغاوت کی بین الااقوامی سطح پر تنقید کی گئی ہے اور امریکی وزارت دفاع کے مطابق تھائی لینڈ کے ساتھ جاری فوجی مشقوں کو منسوخ کر نے کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان طے شدہ فوجی اور قانون نافذ کرنے والے عہدیداروں کے دورے بھی منسوخ کر دیے ہیں۔

تھائی لنیڈ کو گزشتہ چھ ماہ سے سیاسی تنازعات کا سامنا کرنا پڑا اور اس کی وجہ سے کئی بار پرتشدد مظاہرے بھی ہوئے۔

ایک عدالتی ٖفیصلے کی وجہ سے وریزاعظم ینگ لک شیناوترا کو اس ماہ کے اوائل میں اقربا پروری کے الزامات کی بنا پر اقتدار سے الگ ہونا پڑا ۔

تھائی لینڈ کی فوج گزشتہ آٹھ دہائیوں میں 12 مرتبہ ملک میں اقتدار پر قبضہ کر چکی ہے۔
XS
SM
MD
LG