رسائی کے لنکس

تھائی لینڈ میں جمہوریت صرف اقتدار کی رسہ کشی کا معاملہ ہے : تجزیہ کار


تھائی لینڈ میں جمہوریت صرف اقتدار کی رسہ کشی کا معاملہ ہے : تجزیہ کار

تھائی لینڈ میں جمہوریت صرف اقتدار کی رسہ کشی کا معاملہ ہے : تجزیہ کار

اب جب کہ تھائی حکومت اور حز ب اختلاف کے مظاہرین کے درمیان ایک مصالحتی سمجھوتہ ہونے والا ہے، توجہ انتخابات کے منصوبوں کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ سرخ پوش مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان سے جمہوریت چھین لی گئی تھی۔ لیکن صرف چند ہی سال قبل، زرد پوش، سرخ پوشوںکے حامیوں کے راہنماؤں کو ہٹانے کی کوشش کر رہے تھے جن کے بارے میں ان کا کہناتھا کہ انہوں نے جمہوری اداروں کو بد عنوان بنا دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایک دوسرے کے خلا ف بیان بازی کے باوجود دونوں گروپوں میں مثالی جمہوری نظریات کا فقدان ہے ۔

تھائی لینڈ کی تاریخ میںجمہورع عمل میں بڑے زیروبم آتے رہے ہیں۔

1932 میں ملک میں آئینی بادشاہت کے قیام کے بعد سے تھائی لینڈ میں کبھی منتخب، کبھی مقرر کردہ اور کبھی فوجی حکومت کا راج رہاہے۔ سب سے زیادہ عرصہ فوج نے حکومت کی ہے۔

ملک میں فوجی انقلاب یا فوجی انقلاب کی کوششیں 18 مرتبہ ہو چکی ہیں۔

سنگاپورمیں ساؤتھ ایسٹ ایشین اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ کے ایک محقق، مائیکل موٹیسانو کہتے ہیں بیورو کریٹ حلقوں کی جانب سے مملکت پر کنٹرول کے لیے مسابقت کے باعث ہمیں ان تمام عشروں میں اتنے بہت سے فوجی انقلاب دیکھنے پڑے۔ وہ اس لیےسب سے زیادہ طاقتور تھے کہ ان کے پاس بندوقیں تھیں۔ اور تھائی لینڈ کی تاریخ میں زیادہ تر فوجی انقلاب آنے کی وجہ فوج کے مختلف گروپوں کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی تھی۔

بنکاک کی سڑکوں پر سرخ پوشوں میں زیادہ تر مظاہرین ڈکٹیٹر شپ کے مخالف یونائیٹڈ فرنٹ فار ڈیموکریسیUDD) نامی ایک گروپ کے حامی ہیں ۔

UDD کے راہنماؤں کا کہنا ہے کہ، ان کی تحریک محنت کشوں کی تحریک ہے جو فوجی اور شہری اشرافیہ کی مخالف ہے جن کے بارے میں ان کا کہناہے کہ انہوں نے عوام سےسیاسی راہنماؤں کے انتخاب کا حق چھین لیا ہے ۔

لگ بھگ دو ماہ سے سرخ پوشوں نے انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے بنکاک کے ایک اہم تجارتی مرکز کو بلاک کر رکھا ہے۔ سکیورٹی فورسز کے ساتھ مہلک جھڑپوں کے خوف سے سیاح اس علاقے سے چلے گئے ہیں اور ملک کی معیشت کو نقصان پہنچ رہاہے ۔

کچھ مظاہرین چاہتے ہیں کہ مسٹر تھاکسن شینوترا کےخلاف الزامات واپس لیے جائیں اور انہیں دوبارہ اقتدار میں لایا جائے ۔

اینڈریو واکر آسٹریلیا کی نیشنل یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ انتخابات کا مطالبہ ایک جمہوری مطالبہ ہے لیکن مسٹر تھاکسن کے ساتھ مظاہرین کے تعلق نے جمہوری اصولوں کے ساتھ ان کی وابستگی پر سوال اٹھائے ہیں ۔

وہ کہتے ہیں کہ سرخ پوشوں کی سیاسی مہم میں مسئلہ مسٹر تھاکن کی اس شہر ت کا ہے کہ وہ کچھ حوالوں سے بنیادی جمہوری اداروں کا احترام نہیں کرتے اور وہ خود ایک انتہائی رئیس تاجر ہیں جو اپنے انتخابی حامیوں کو ایک طرح سے اپنے فائدے کےلیے استعمال کر رہے ہیں۔

سرخ پوشوں کی ناکہ بندی میں پیپلز الائنس فار ڈیموکریسی کہلوانے والے زرد پوش مظاہرین کے طریقوں کی نقل کی گئی تھی۔

دو سال قبل زرد پوشوں کی تحریک نے کئی ماہ تک سرکاری دفاتر کی ناکہ بندی کی تھی اور بنکاک کے انٹر نیشنل ائیر پورٹ پر ایک ہفتے تک قبضہ کر کے ملک کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا تھا۔ چند ہی ہفتوں میں عدالت کےفیصلوں کے تحت مسٹر تھاکسن کی قریبی دو حکومتوں کو برطرف کر دیا گیا ۔

زرد پوش ارکان کا دعویٰ ہے کہ وہ مسٹر تھاکسن جیسے سیاست دانوں کےخلاف لڑیں گے جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے بدعنوان جمہوری اداروں کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ اکثریتی حکومت نہیں چاہتے۔ وہ ایک منتخب پارلیمنٹ کی بجائے ایک زیادہ تر نامزد ا فراد پر مشتمل پارلیمنٹ چاہتے ہیں ۔

یونیورسٹی آف ناردرن الی نوائے کے سیاسیات کے پروفیسر ڈینی اونگر کہتے ہیں کہ بہت سے تھائی جمہوریت کو ایک بےثمر کھیل سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ یہ سب اعلیٰ جمہوری اقدار کی بات کرتے ہیں لیکن یہ زیادہ تر اقتدار کی ایک جنگ ہے ۔

سرخ پوشوں نے تین ماہ کے اندر انتخابات کرانے کا مطالبہ کیاہے۔ پیر کے روز حکومت نے ایک مصالحتی منصوبہ پیش کیا جس میں نومبر میں انتخابات کر انا شامل ہے۔

سرخ پوش راہنماؤں نے کہا ہے کہ وہ اس پیش کش کو قبول کر لیں گے۔ لیکن کسی حتمی سمجھوتے کا انحصار، احتجاج کے دوران ہونےوالے تشدد کی غیر جانب دارانہ چھان بین، اور مظاہرین کے لیے معافی وغیرہ جیسے امور پر ہو گا ۔

مارچ میں مظاہروں کے آغاز کے بعد سے پہلی بار ایسا دکھائی دیتا ہے کہ بنکاک میں حالات جلد معمول پر آجائیں گے ۔

تاہم بہت سے سیاسی تجزیہ کاروں اور تھائی ووٹرز کا کہنا ہے کہ انہیں ڈر ہے کہ مظاہرین کے گھروں کو لوٹ جانے اور انتخابات منعقد ہوجانے کے بعد بھی ملک کے مسائل کا خاتمہ نہیں ہو گا۔ ان کا کہنا ہے کہ انتخابات میں سرخ پوشوں کی کامیابی سے زرد پوشوں کے نئے مظاہرے شروع ہو سکتے ہیں اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا۔

XS
SM
MD
LG