رسائی کے لنکس

انتخابات 2016ء سے قبل نہیں ہو سکتے: تھائی عہدیدار


وزیراعظم پرایوتھ چان اوچا

وزیراعظم پرایوتھ چان اوچا

گزشتہ ہفتے ہی حکومت نے کہا تھا کہ وہ مستقبل قریب میں مارشل لاء ہٹائے جانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔

تھائی لینڈ کی فوج کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ ملک میں انتخابات 2016ء سے قبل نہیں ہو سکتے جس سے فوج کی طرف سے جمہوری انتقال اقتدار کے وعدے میں مزید تاخیر ہوتی نظر آتی ہے۔

نائب وزیراعظم اور وزیردفاع پراوِت وونگسووان نے جمعرات کو صحافیوں کو بتایا کہ " اگر آئین کا مسودہ تیار ہو جاتا ہے تو انتخابات 2016ء کے اوائل میں ہو سکتے ہیں۔"

ان کا کہنا تھا کہ اس تاخیر کی ایک وجہ ان "عناصر" کی موجودگی ہے جو فوجی قیادت کی مخالفت کرتے آ رہے ہیں۔

تھائی لینڈ میں کئی ماہ تک جاری رہنے والے حکومت مخالف مظاہروں کے بعد عدالت کی طرف سے وزیراعظم ینگ لک شیناواترا کو اقتدار سے ہٹایا گیا جس کے بعد فوج نے اقتدار سنبھال لیا تھا۔

فوج کا کہنا تھا کہ ملک کی 80 سالہ تاریخ کی یہ بارہویں فوجی بغاوت تھی اور ملک میں بدامنی کو مزید پھیلنے سے روکنے اور اصلاحات کے لیے مارشل لاء کا نفاذ ضروری تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں عوامی اجتماعات پر پابندی اور میڈیا پر قدغنیں لگانے پر فوج کو تنقید کا نشانہ بناتی آ رہی ہیں۔

فوج کے سربراہ پرایوتھ چان اوچا جو کہ اب وزارت عظمیٰ کے منصب پر بھی فائز ہیں، پہلے یہ اعلان کر چکے ہیں کہ فوج کی طرف سے مقرر کردہ کمیٹی جب آئین کا مسودہ تیار کر لے گی تو انتخابات اکتوبر 2015ء میں ہوں گے۔

گزشتہ ہفتے ہی حکومت نے کہا تھا کہ وہ مستقبل قریب میں مارشل لاء ہٹائے جانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔

XS
SM
MD
LG