رسائی کے لنکس

تھائی لینڈ میں انتخابات موخر ہو سکتے ہیں: عدالت


جمعہ کی صبح بند کمرے میں سماعت کے بعد عدالت نے دوپہر کو یہ فیصلہ سنایا جس کے مطابق یہ نگران وزیراعظم ینگ لک شیناواترا اور الیکشن کمیشن پر منحصر ہے کہ وہ انتخابات کی کسی نئی تاریخ پر متفق ہوتے ہیں یا نہیں۔

تھائی لینڈ میں آئینی عدالت نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی تحلیل کے بعد 60 دنوں میں الیکشن کروانے کی آئینی پابندی کے باوجود دو فروری کو ہونے والے انتخابات کو قانونی طور پر ملتوی کیا جا سکتا ہے۔

جمعہ کی صبح بند کمرے میں سماعت کے بعد عدالت نے دوپہر کو یہ فیصلہ سنایا جس کے مطابق یہ نگران وزیراعظم ینگ لک شیناواترا اور الیکشن کمیشن پر منحصر ہے کہ وہ انتخابات کی کسی نئی تاریخ پر متفق ہوتے ہیں یا نہیں۔

حزب مخالف انتخابات موخر کرنے کا مطالبہ کرتی آئی ہے لیکن حکومت یہ کہہ کر اسے مسترد کر چکی ہے کہ ایسا کرنا قانونی طور پر ممکن نہیں۔ الیکشن کمیشن نے بدھ کو کہا تھا کہ وہ اس بارے میں آئینی عدالت سے فیصلہ لے گا۔

کمیشن متعدد بار حکومت کو متنبہ کرتا آیا ہے کہ فروری میں طے شدہ انتخابات میں ممکنہ طورپر خلل پڑ سکتا ہے جس کے بڑی وجوہات میں سلامتی کے خدشات اور پولنگ کے عمل کے لیے درکار رضا کاروں کی کمی ہے۔

تھائی لینڈ میں حزب مخالف کے رہنما سیتھپ تھاؤگوسوبان گزشتہ 11 روز سے مسلسل دارالحکومت میں مظاہروں کی قیادت کر رہے ہیں جن کا مقصد وزیراعظم ینگ لک شیناواترا کی حکومت کو ہٹا کر ایک غیر منتخب پیپلز کونسل کو اقتدار کی منتقلی ہے۔

راوں ہفتے بدھ کو تھائی لینڈ کے دارالحکومت میں باقاعدہ ایمرجنسی نافذ کر دی گئی لیکن اس کے باوجود حکومت مخالف احتجاج میں شامل مظاہرین کو منتشر نہیں کیا جا سکا۔

وزیراعظم ینگ لک شیناواترا اقتدار سے الگ ہونے کے مطالبے کو مسترد کر چکی ہیں اور اُنھوں نے مظاہروں کے بعد پارلیمنٹ کو تحلیل کرتے ہوئے ملک میں دو فروری کو انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا تھا۔
XS
SM
MD
LG