رسائی کے لنکس

تھائی لینڈ: ایمرجنسی کے نفاذ کے باجود مظاہرے جاری


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

گو کہ پولیس نے مظاہرین کے کیپمس کے قریب پوسٹوں پر چیکنگ میں اضافہ کردیا مگر وہاں پر فوجی اہلکاروں کی موجودگی دکھائی نہیں دیتی۔ انتظامیہ کی جانب سے بھی کرفیو یا سیاسی اجتماعات پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی ہے۔

تھائی لینڈ کے دارالحکومت میں بدھ کو باقاعدہ ایمرجنسی نافذ کردی گئی لیکن گزشتہ ایک ہفتے سے جاری حکومت مخالف احتجاج کو منتشر کرنے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے۔

لیکن اسی دوران ملک کے شمالی علاقے میں حکومت کے حامی ایک اہم رہنما پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کر دی جس سے وہ زخمی ہوگئے۔

حکومت کی طرف سے بنکاک اور اس کے گردونواح میں منگل کو ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا گیا جہاں پرامن احتجاج کے خلاف حالیہ دنوں میں کارروائیاں کی گئیں۔

گو کہ پولیس نے مظاہرین کے کیپمس کے قریب پوسٹوں پر چیکنگ میں اضافہ کردیا مگر وہاں پر فوجی اہلکاروں کی موجودگی دکھائی نہیں دیتی۔ انتظامیہ کی جانب سے بھی کرفیو یا سیاسی اجتماعات پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی ہے۔

لیکن مظاہرین بشمول سری راج پوپنواتنا کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ نے ان کی آزادی کو محدود کر دیا۔

’’ایمرجنسی کا اعلان تب کیا جاتا جب مظاہرین کی طرف سے ایسی صورتحال پیدا کی جاتی۔ ان مظاہروں میں کوئی تشدد نہیں لیکن ان میں وہ لوگ شامل ہیں جو کہ تشدد سے متاثر ہوئے۔‘‘

مظاہرین کے ایک کیمپ کے قریب اتوار کو دو دھماکوں میں کم از کم 28 افراد زخمی ہوئے جبکہ جمعہ کو بنکاک ہی میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں ایک شخص ہلاک ہوا۔ نومبر سے جاری ان مظاہروں کے دوران اب تک 9 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ایک غیر منتخب کونسل ان کے بقول موجودہ بدعنوان حکومت کی جگہ اقتدار سنبھالے۔

وزیراعظم ینگ لک شیناواترا اقتدار سے الگ ہونے کے مطالبے کو مسترد کر چکی ہیں اور اُنھوں نے مظاہروں کے بعد پارلیمنٹ کو تحلیل کرتے ہوئے ملک میں دو فروری کو انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا تھا۔
XS
SM
MD
LG