رسائی کے لنکس

تھائی لینڈ میں شدت پسندوں سے مذاکرات کی تیاریاں

  • ران کاربن

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

امن مذاکرات 28 مارچ سے شروع ہوں گے، تھائی لینڈ کے جنوبی صوبوں میں رہنے والوں کی اکثریت مسلمان ہے اور وہ ایک عرصے سے امتیازی سلوک کے خاتمے اور زیادہ خودمختاری کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

تھائی لینڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ملائشیا میں ایک اہم گروپ سے امن مذاکرات کرے گا۔ اس گروپ کا تعلق جنوبی تھائی لینڈ میں مسلمانوں کی بغاوت سے ہے جس میں گذشتہ دس برسوں میں تقریباً 4,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

تھائی لینڈ کے جنوبی صوبوں میں رہنے والوں کی اکثریت مسلمان ہے اور وہ ایک عرصے سے امتیازی سلوک کے خاتمے اور زیادہ خودمختاری کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

امن مذاکرات 28 مارچ سے شروع ہوں گے۔ ان پر تھائی نیشنل سیکورٹی کونسل کے سکریٹری جنرل پیرڈان پیٹناتھابیٹر اور نیشنل ریولیوشنیری یا (بی آر این) کے سینیئر ملائیشائی نمائندے حسن طیب نے اتفاق کیا ہے۔

بی آر این ان بہت سے گروپوں میں شامل ہے جو جنوبی تھائی لینڈ میں سرگرم ہیں اور ایک خودمختار ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔

بی آر این کے علاوہ جو دوسرے گروپ جنوبی تھائی لینڈ میں سرگرم ہیں ان میں مجاہدین پیٹنی موومنٹ، پیٹنی لبریریشن آرگنائزیشن، پیٹنی اسلامک مجاہدین موومنٹ اور نیشنل فرنٹ سمیت دیگر کئی گروپ شامل ہیں۔

سکریٹری جنرل پیرڈان نے تھائی لینڈ کی پارلیمینٹ کی ہاؤس کمیٹی کو بتایا ہے کہ دوسرے گروپوں کو بھی مذاکرات میں مدعو کیا جائے گا۔

جنوب میں غیر سرکاری تنظیم جسٹس فار پیش ان ساؤتھ کے صدر آنگانا نیلیپجیت نے کہا ہے کہ یہ مذاکرات صرف اسی صورت میں کامیاب ہو سکتے ہیں جب مقامی آبادیوں میں تھائی لینڈ کی حکومت زیادہ اعتماد پیدا کرے۔

‘‘میں سمجھتا ہوں کہ مذاکرات بہت عجلت میں کیے جا رہے ہیں کیوں کہ باغیوں کے بہت سے گروپوں کے خیالات مختلف ہیں۔ ہمیں بہت احتیاط سے کام لینا چاہیئے اور تمام گروپوں کو مذاکرات میں شامل کرنا چاہیئے۔’’

تھائی لینڈ کے عہدے داروں اور انسانی حقوق کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملائشیا میں مذاکرات کے لیے سابق تھائی لیڈر تھاکسن شینوترا نے مہم چلائی۔ وہ 2008 میں بد عنوانی کے الزام میں دو سال کی قید سے بچنے کے لیے فرار ہو گئے تھے لیکن وہ اب بھی پس پردہ بہت سے اہم فیصلے کرتے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کے سونائی پاسیک کہتے ہیں کہ مذاکرات شروع کرنے کے لیے، مسٹر تھاکسن نے ملائشیا کے حکومت کے ساتھ اپنی قریبی روابط سے کام لیا ہے۔

تھائی لینڈ کی حکومت اور بی آر این کے ساتھ امن مذاکرات کے بارے میں رضامندی ملائیشیا کے وزیرِ اعظم نجیب رزاق اور ملائشیا کی حکومت اور تھائی لینڈ کی حکومت کے درمیان ذاتی دوستی کا نتیجہ ہے۔
اسی دوستی کی وجہ سے ملائیشیا کی پولیس کی اسپیشل برانچ نے بی آر این کے بزرگ رہنماؤں پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر آ کر بیٹھیں۔

سونائی کہتے ہیں کہ یہ شرط کہ باغی ایک آزاد پیٹنی ریاست کے قیام کے لیے مسلح جدو جہد سے دست بردار ہو جائیں، ملائشیا اور تھاکسن دونوں کے اصرار پر شامل کی گئی۔

یالا صوبے کے اہم شہر بیٹانگ میں ہوٹل کے جنرل منیجر بنچانگ وانگ کہتے ہیں کہ اگر کوئی سمجھوتہ ہو گیا اور تشدد میں کمی آ گئی، تو مقامی معیشت کو، خاص طور سے سیاحت کی صنعت کو بہت فائدہ پہنچے گا۔

‘‘ابتدائی قدم تو اچھا ہے، لیکن کمانڈر کو دوسرے گروپوں کے ساتھ بھی مذاکرات کرنے چاہئیں کیوں کہ پانچ یا چھہ گروپ سرگرم ہیں۔ اگر لوگوں کو تحفظ اور سلامتی کا احساس ہو، تو بہت اچھا ہوگا، میرا کاروبار بھی گذشتہ سال کے مقابلے میں بہتر ہو گا۔’’

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ان مذاکرات کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ جنوبی سرحد کے صوبوں کی شکایات پر توجہ دی جائے۔ خاص طور سے مسلمان آبادیوں کے خلاف امتیازی سلوک ختم کیا جائے۔
XS
SM
MD
LG