رسائی کے لنکس

تھائی صحافی فوجی رہنما کے 'مذاق' سے پریشان


پرایوتھ چن اوچا

پرایوتھ چن اوچا

وزیرِاعظم پرایوتھ چن اوچا نے صحافیوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ کوئی ایسی خبر نہ دیں جس سے ’’تنازعات‘‘ پیدا ہوں، ورنہ انہیں موت کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تھائی لینڈ میں صحافیوں نے فوجی حکمران پرایوتھ چن اوچا کے ایک تبصرے پر تشویش کا اظہار کیا ہے جس میں انہوں نے صحافیوں سے کہا تھا کہ اگر وہ انہیں ناخوش کریں گے تو انہیں سزائے موت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ’’میں موت کی سزا دینے کے لیے کتے کے سر والا آلہ استعمال کروں گا۔ میں میڈیا سے نمٹوں گا۔۔۔ مگر میں اب بھی ان سے پیار کرتا ہوں۔‘‘

وزیرِاعظم پرایوتھ چن اوچا نے صحافیوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ کوئی ایسی خبر نہ دیں جس سے ’’تنازعات‘‘ پیدا ہوں، ورنہ انہیں موت کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ وہاں موجود صحافیوں کے مطابق انہوں نے یہ بات بڑے سنجیدہ انداز میں بغیر کسی مسکراہٹ کے کہی تھی۔

فوج سے جنرل کے عہدے سے ریٹائر ہونے والے پرایوتھ نے پچھلے برس فوج کے سربراہ کی حیثیت سے ملک کی سویلین حکومت کا تختہ الٹا کر اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔ وہ اپنے متلون مزاج کی وجہ سے مشہور ہیں۔ تھائی صحافیوں کے ساتھ اکثر ہونے والی بات چیت کے دوران ان کے لہجے میں مذاق اور دھمکی کا ملا جلا تاثر ملتا رہتا ہے۔

کچھ تھائی صحافیوں نے ان کی تازہ دھمکی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اسے مزاح کے طور پر نہیں لینا چاہیئے۔ تاہم تھائی لینڈ میں غیر ملکی صحافیوں کا خیال ہے کہ یہ محض ایک مذاق تھا۔ اس واقعے سے چند گھنٹے پہلے ہی انہوں نے ایک صحافی کو فوجی حکومت کے افسروں کے سامنے حاضر ہونے کا حکم دیا تھا۔

ان کو اس صحافی کی ایک تحقیقاتی خبر ناگوار گزری تھی جس میں اس نے ان تھائی مچھیروں کی حالتِ زار بیان کی تھی جو انڈونیشیا کے ایک جزیرے پر قید ہیں یا مر چکے ہیں۔

انسانی اسمگلنگ تھائی لینڈ اور زراعت اور سمندری صنعت سے وابستہ اس کی بڑی کمپنیوں کے لیے ایک حساس موضوع ہے۔ تھائی لینڈ سالانہ 200,000 ٹن سمندری ذرائع سے حاصل ہونے والی خوراک برآمد کرتا ہے۔

امریکی دفترِ خارجہ نے اپنی2014 کی انسانی اسمگلنگ رپورٹ میں تھائی لینڈ کو تیسرے درجے پر رکھا ہے۔ تھائی لینڈ کو یورپی یونین کی طرف سے بھی سمندری خوراک کے پروسیسنگ پلانٹس کارکنوں کے حقوق کی خلاف ورزی اور جہازوں پر غلامی کے الزامات پر چھان بین کا سامنا ہے۔

XS
SM
MD
LG