رسائی کے لنکس

تھائی لینڈ: حکومت مخالف اور حامی گروپوں کے احتجاجی جلوس


تھائی لینڈ: حکومت مخالف اور حامی گروپوں کے احتجاجی جلوس

تھائی لینڈ: حکومت مخالف اور حامی گروپوں کے احتجاجی جلوس

اِس سال کے اواخر تک متوقع تھائی لینڈ کےانتخابات سے قبل، آج اتوار کو بینکاک میں متحارب سیاسی مظاہروں کی ایک نئی لہر اُس وقت سامنے آئی جب ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین نے حکومت مخالف ریلیوں میں شرکت کی۔

فرانسسی خبر رساں ادارے نے پولیس کے ذرائع سے بتایا ہے کہ 15000سے زائد کی تعداد میں ‘سرخ پوش’ تحریک سے تعلق رکھنے والے افراد نے گذشتہ برس زیر حراست لیے گئے تحریک کے 18راہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے بینکاک کے یادگارِ جمہوریت کے قریب جمع ہوئے، جہاں 2010ء میں حکومت مخالف مظاہرے ہوئے تھےجو ہفتوں تک جاری رہے۔

قریب ہی قوم پرست ‘زرد رنگ’ تحریک کے حامیوں نے ایک علیحدہ ریلی نکالی جس میں وزیر اعظم ابھیشٹ ویجا جیوا کے استعفے کا مطالبہ کیا گیا۔ مظاہرین ہمسائیہ ملک کمبوڈیا کے ساتھ طویل عرصے سے جاری سرحدی تنازع پر حکومت کی طرف سےاختیار کیے گئے طریقہٴ کار سے اختلاف رکھتے ہیں۔
احتجاج کے مقام پراتوار کو ہزاروں کی تعداد میں پولیس تعینات تھی، تاہم زخمی ہونے یا تشدد کے واقعات کے بارے میں کسی طرح کی کوئی خبر موصول نہیں ہوئی۔
گذشتہ ہفتے حکومت نے بینکاک کے اُس مرکزی حصے میں جہاں سرکاری اور تجارتی علاقہ واقع ہےمظاہروں پر پابندی عائد کردی تھی، جِس کے باوجود ریلیاں نکالی گئی ہیں۔ یہ مظاہرے انتخابات سے قبل ہوئے ہیں جِن کے بارے میں وزیراعظم کا کہنا ہے کہ یہ اِسی سال کے پہلے نصف میں بھی کرائے جاسکتے ہیں۔ مسٹر ابھیشٹ کے عہدے کی مدت دسمبر میں مکمل ہو رہی ہے۔

تھائی لینڈ کی تاریخ کا سب سے زیادہ المناک اور ہلاکت خیز سیاسی تشدد گذشتہ سال اُس وقت سامنے آیا جب مرکزی بینکاک میں سرخ پوشاک اوڑھے سرگرم کارکنوں نے 10ہفتے تک احتجاج جاری رکھا، جس میں سے زیاد ہ ترنکالے گئے سابق وزیر اعظم تھیکسن شناوترا کے حامی تھے۔ احتجاجی مظاہروں کے دوران مسلح افراد کی بارہا فوجیوں کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں، جِس کے بعد فوج نے بغاوت کو کچل ڈالا۔ اِن واقعات میں 91افراد ہلاک جب کہ تقریباً 1800سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

XS
SM
MD
LG