رسائی کے لنکس

تھائی لینڈ: وزیراعظم سے ایک بار پھر مستعفی ہونے کا مطالبہ


وزیراعظم ینگ لک شیناواترا

وزیراعظم ینگ لک شیناواترا

حزب مخالف کے رہنما کا کہنا تھا کہ ایسی عبوری انتظامیہ مقرر کی جائے جو سیاسی اصلاحات کی نگرانی کرے جس کے بعد ان اصلاحات پر ریفرنڈم ہو۔

تھائی لینڈ میں حزب مخالف کے رہنما نے ایک بار پھر وزیراعظم ینگ لک شیناواترا سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہے ان کی جماعت انتخابات میں حصہ نہیں لے گی۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما ابھیشت ویجاجیوا نے ہفتہ کے روز کہا کہ مس ینگ لک اور ان کی نگران کابینہ کو مستعفی ہو جانا چاہے اور ایسی عبوری انتظامیہ مقرر کی جائے جو سیاسی اصلاحات کی نگرانی کرے۔ ان کے بقول اس کے بعد ان اصلاحات پر ریفرنڈم ہو اور پھر چھ ماہ بعد انتخابات ہوں۔

حزب مخالف نے فروری میں ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔ اس ہفتے تھائی لینڈ نے انتخابات کے لیے 20 جولائی کی تاریخ مقرر کی تھی جسے فی الوقت شاہی فرمان کے ذریعے منظور کروانے کی ضرورت ہے۔

مس ینگ لک کی جماعت ملک کی واحد جماعت ہے جو گزشتہ دسمبر میں ان کی طرف سے پارلیمان کی تحلیل کے بعد سے کام کر رہی ہے۔

اپوزیشن چاہتی ہے کہ تھائی لینڈ کی سیاست سے شینا واترا خاندان کا اثرورسوخ ختم کیا جائے۔

مس ینگ لک کے بڑے بھائی تھاکسن پانچ سال تک ملک کے وزیراعظم رہ چکے ہیں اور 2008ء میں وسیع پیمانے پر حکومت مخالف مظاہروں کے بعد ایک فوجی بغاوت کے ذریعے ان کے اقتدار کا خاتمہ ہوا تھا۔

تھاکسن شیناواترا بدعنوانی کے الزامات میں سزا سے بچنے کے لیے خودساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
XS
SM
MD
LG