رسائی کے لنکس

تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں مظاہرے بدستور، حکومت کی جانب سے سخت وارننگ


احتجاج کا سلسلہ جاری رکھیں: سابق وزیر اعظم شناواترا

تھائی حکومت نے حزب ِ مخالف کو متنبہ کیا ہے کہ وہ دو روزہ مظاہروں کا سلسلہ اب ختم کریں ورنہ سخت نتائج کے لئے تیار رہیں۔

اتوار کے روز ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم ابھیست وجاجیوا نے سرخ قمیص مظاہرین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ آئین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

بیس ہزار سے زائد سرخ قمیص مظاہرین دو دن سے دارالحکومت میں اہم تجارتی چوک پر بیٹھے ہیں جس سے کم سے کم چھ بڑے شاپنگ مال بند پڑے ہیں۔

اس علاقے پرہفتے کے روز تقریباً 55000 کے ہجوم نے قبضہ جما رکھا ہے۔ وہ حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ فوری طور پر نئے انتخابات کرائے۔

حکومت نے کہا ہے کہ مظاہرین اگر منتشر نہ ہوئے تو ہر ایک کو ایک سال قید اور 620 ڈالر جرمانہ ہو سکتا ہے۔

مظاہرین نے، جن میں سے اکثریت کا تعلق غریب طبقے سے ہے، گذشتہ رات سرکاری دفتروں، تجارتی مراکز اور ہوٹلوں کے سامنے دھرنا دے کر گزاری جس کے باعث ٹریفک بھی متاثر ہوئی۔

دوسر ی طرف سابق وزیر اعظم تھاکشن شناواترا نے اپنے حامی مظاہرین پر زور دیا ہے کہ وہ احتجاج کا سلسلہ جاری رکھیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ سابق وزیر اعظم کے حامی اس لیے بنے کہ ان کی طرف سے غریب اور دیہی علاقوں کے عوام کے لیے صحت کی سستی سہولتوں اور کم شرح سود پر قرضوں سمیت دوسری پالیسیوں سے بہت فائدہ ہوا۔

یہ مظاہرین جنھیں متوسط طبقے کی بھی حمایت حاصل ہو رہی ہے وزیر اعظم کی حکومت کو غیر جمہوری قرار دیتے ہیں اور ان کے مطابق انتخابات ہی حقیقی جمہوریت کو بحال کر سکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG