رسائی کے لنکس

ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین شہر کے اہم علاقوں میں مرکزی شاہراہوں کو بند کرنے اور سرکاری دفاتر میں کام سے روکنے کے لیے جمع ہوئے۔

تھائی لینڈ میں ہزاروں مظاہرین نے آئندہ ماہ کے انتخابات سے پہلے حکومت گرانے کی مہم کے سلسلے میں پیر کو دارالحکومت بنکاک میں اہم چوراہوں، پلوں اور سڑکوں کو بند کیا۔

پرجوش ہجوم میں شامل افراد اپنی نام نہاد ’’بنکاک شٹ ڈاؤن‘‘ مہم کے پہلے روز اسے دیگر علاقوں تک بھیلانے کے لیے تیاری کر رہے تھے۔

بنکاک شہر کے تجارتی مرکز میں مظاہرین کی طرف سے ریلی کے لیے اتوار کی شام کو اسٹیج لگانے کے بعد سے ہی جھنڈے اٹھائے لوگ جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔

سیٹیاں بجاتے ہوئے مظاہرین وزیراعظم کو ہدف تنقید بنایا اور کہا کہ وہ حکومت کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اصلاحات لائیں گے۔

مظاہرین اس ’’شٹ ڈاؤن‘‘ کو اُن کے بقول ایک ’’بدعنوان‘‘ حکومت کو ہٹانے کے لیے آخری حربہ سمجھتے ہیں۔

مظاہرے میں شریک ایک شخص کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد حکومت کو بتانا ہے کہ اس کے پاس اب حکمرانی کرنے کا کوئی قانونی حق نہیں۔


تھائی لینڈ میں یہ سیاسی بحران گزشتہ سال اُس وقت شروع ہوا جب وزیراعظم ینگ لک شیناواترا کی جماعت نے سیاستدانوں کو عام معافی دینے کا بل منظور کرنے کی کوشش کی جس کے تحت ان کے اپنے جلاوطن بھائی اور سابق وزیراعظم تھاکسن شیناواترا کی وطن واپسی ممکن ہو سکتی تھی۔

وزیراعظم ینگ لک نے پارلیمنٹ تحلیل کرتے ہوئے دو فروری کو انتخابات کا اعلان کیا تھا اور ملک کے سیاسی بحران کے حل کے لیے قومی اصلاحاتی کونسل کی تشکیل کی تجویز بھی دی تھی۔

لیکن حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ یہ کافی نہیں۔

سابق نائب وزیراعظم سیتھپ تھاؤگوسوبان کا کہنا ہے کہ ایک غیر منتخب عوامی کونسل بنائی جائے جو کہ بدعنوانی اور سیاست میں دولت کی ریل پیل کی روک تھام کے لیے اصلاحات کرے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم ینگ لک کی جماعت کے 2 فروری کے انتخابات جیتنے کے امکانات زیادہ ہیں۔
XS
SM
MD
LG