رسائی کے لنکس

تھائی لینڈ میں مطالبات منوانے کے لیے علامتی ”خون بہاؤ“ مہم

  • ب

تھائی لینڈ میں حکومت مخالف مظاہرین نے نئے انتخابات کروانے کے اپنے مطالبے میں شدت لانے کے لیے مختلف سرکاری عمارتو ں کے سامنے علامتی طور پر اپنا خون بہانے کے سلسلے میں خون کے عطیات دینا شروع کر دیے ہیں۔

منگل کو دارالحکومت بنکاک میں سُرخ قمیضوں میں ملبوس مظاہرین لائنیں بنا کر کھڑے دیکھائی دیے تاکہ طبی عملہ ان کے خون کا عطیہ لے سکے جسے بعد میں وزیرا عظم ہاؤس، وزیر اعظم کی ڈیموکریٹک پارٹی کے صدر دفتر اور دوسر ی سرکاری عمارتوں کے سامنے بہایا جائے گا۔

مظاہرین کے قائدین کا کہنا ہے کہ اس علامتی اقدام کا مقصد اُس قربانی کی طرف توجہ دلانا ہے جس کے لیے وہ تیار ہیں۔ لیکن ناقدین نے اسے اقدام کو غیر مہذب اور غیر مفید قرار دے کر اس کی مذمت کی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ خون کی اس علامتی قربانی کاایک مقصد اُن ایک لاکھ سے زائد مظاہرین کی توجہ کو بھی برقرار رکھنا ہے جو اتوار کے روز سے بنکاک میں ہونے والے اس احتجا ج کے لیے جمع ہیں اور جن کی اکثریت کا تعلق تھائی لینڈ کے دیہی علاقو ں سے ہے۔

سرخ قمیضوں میں ملبوس یہ مظاہرین سابق وزیر اعظم تھاکسن شناواترا کے حامی ہیں جنہیں 2006 میں ایک فوجی بغاوت کے ذریعے برطرف کر دیا گیا تھا اور وہ ان دنوں دبئی میں مقیم ہیں۔

مظاہرین کا مئوقف ہے کہ ملک کے موجودہ وزیر اعظم ابحیشت وِجاجوا نے غیر قانونی طو رپر اقتدار پر قبضہ کیا ہے۔ لیکن پیر کو ٹیلی ویژن پر ایک تقریر میں تھائی لینڈ کے وزیرا عظم نے پارلیمان کو تحلیل کرنے اور مقررہ وقت سے پہلے انتخابات کے انعقاد کے مطالبات کو مسترد کر دیا۔

زرد قمیضوں میں ملبوس اُن کے حامیوں کو فوج ، شہری علاقوں کے مراعت یافتہ طبقے اورتھائی شاہی خاندان کے وفاداروں کی حمایت حاصل ہے۔

تھائی لینڈ کے معزول وزیر اعظم کو بدعنوانی کے الزامات میں ملک کی ایک عدالت نے دو سال قید کی سزا سنائی تھی لیکن وہ ان دنوں دبئی میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔

XS
SM
MD
LG