رسائی کے لنکس

بنکاک میں رواں ہفتے سرکاری دفاتر بند کیے جائیں گے، سیتھپ


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

مظاہرے کی قیادت کرتے ہوئے سیتھپ کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی کا اعلان غیر ضروری تھا اور اس سے مطاہرین کے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مظاہرین کو عوام کی حمایت حاصل ہے۔

تھائی لینڈ میں حکومت مخالف مظاہروں کی قیادت کرنے والے رہنما سیتھپ تھاؤگوسوبان نے دارالحکومت مین ایمرجنسی کے نفاذ ہر تنقید کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ رواں ہفتے کے اواخر میں وہ ’’حکومت کے ہر ادارے‘‘ کو بند کریں گے۔

سابق نائب صدر حکومت کے خاتمے کے لیے گزشتہ 10 روز سے مسلسل احتجاج کررہے ہیں۔ ان کے بقول موجودہ حکومت بدعنوان ہے اور اس کی جگہ غیر منتخب عوامی کونسل کو لایا جائے۔

بنکاک میں پرہجوم مظاہروں کے پیش نظر حکومت نے بدھ کو شہر میں دو ماہ کے لیے ایمرجنسی نافذ کردی۔ گو کہ سرکاری عہدیدار کہہ چکے ہیں کہ مظاہریں کو منشر نہیں کیا جائے گا تاہم ایمرجنسی کے نفاذ نے حکومت کے اختیارات میں اضافہ کیا ہے۔

مظاہرے کی قیادت کرتے ہوئے سیتھپ کا کہنا تھا کہ یہ اعلان غیر ضروری تھا اور اس سے مطاہرین کے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مظاہرین کو عوام کی حمایت حاصل ہے۔

’’اس ہفتے ہم ہر سرکاری محمکے کو بند کر دیں گے۔ سرکاری ملازمین ہمیں کہتے آئے ہیں کہ ان کے دفاتر کو بند کردیا جائے۔ وہ ہم سے چاہتے ہیں کہ ہم آمدورفت کے ذارئع بھی بند کردیں۔ لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے۔ تمام سرکاری ملازمین عوام کے ساتھ ہیں۔‘‘

سیتھپ کا ابتدائی منصوبہ تھا کہ وزیراعظم ینگ لک شیناواترا کو مستفی ہونے پر مجبور کرنے کے لیے پہلے اہم وزارتوں کو کام کرنے سے روکا جائے۔ لیکن جب حکومت نے متبادل مقامات پر اپنے دفاتر منتقل کیے تو انہوں نے مظاہرین کو شہر کے اہم چوراہوں کو بند کرنے کا کہا۔

اگرچہ ابھی تک تصادم کے واقعات کم پیش آئے لیکن حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ ہوا اور حالیہ ہفتوں میں 9 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

بدھ کو تھائی لینڈ کے شمال میں حکومت کے حامی ایک رہنما کو فائرنگ کرکے زخمی کردیا گیا جس سے تشدد کے واقعات کے پھیلنے کا خوف پیدا ہوگیا۔

اس بدامنی کی باعث کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ 2 فروری کو ہونے والے انتخابات نہیں ہونے چاہیئں۔ الیکشن کمیشن نے بدھ کا کہا کہ وہ آئینی عدالت سے اس پر فیصلہ لے گا کہ آیا انتخابات میں تاخیر کی جا سکتی ہے یا نہیں۔
XS
SM
MD
LG