رسائی کے لنکس

بنکاک میں حکومت مخالف مظاہرے جاری


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

مظاہرین کے ایک رہنما ستھپ تھاسوبن نے اپنے حامیوں کو کہا کہ وہ ہر ایک وزارت میں گھس جائیں تاکہ حکومت انہیں استعمال نا کر سکے۔

تھائی لینڈ میں حکومت مخالف احتجاج بدھ کو بھی جاری رہا اور وزیراعظم ینگ لک شیناواترا کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین نے اپنی کارروائیوں کا دائرہ دارالحکومت کے مزید علاقوں تک پھیلا دیا۔

بنکاک میں احتجاجوں کا سلسلہ گزشتہ تین روز سے جاری ہے اور مظاہرین نے وزارت خزانہ اور خارجہ کی عمارتوں پر قبضہ جبکہ وزارت داخلہ کا گھیراؤ کر رکھا ہے۔

مظاہرین کے ایک رہنما ستھپ تھاسوبن نے اپنے حامیوں کو کہا کہ وہ ہر ایک وزارت میں گھس جائیں تاکہ حکومت انہیں استعمال نا کر سکے۔

’’اگر سرکاری ملازمین غاصب کے لیے کام کرنا روک دیں تو تھاکسن حکومت کمزور ہو جائے گی۔‘‘

سابق نائب وزیراعظم ستھپ نے منگل کو اپنا مقصد بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ موجودہ حکومت کی جگہ ایک غیر منتخب کونسل کی تشکیل چاہتے ہیں۔

انہوں نے موجودہ حکومت کو ’’بدعنوان‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی باگ ڈور وزیراعظم کے جلاوطن بھائی تھاکسن شیناواترا کے ہاتھ میں ہے۔

بنکاک پولیس نے ستھپ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کر رکھے ہیں لیکن ابھی تک نا ہی اس پر عمل درآمد کیا اور نا ہی مظاہروں کو بند کراونے کے لیے طاقت کا استعمال کیا ہے۔

دریں اثنا حزب اختلاف کی جماعت ڈیموکریٹ پارٹی نے وزیراعظم کے خلاف پارلیمان میں عدم اعتماد کی بحث شروع کردی ہے۔ ینگ لک کی جماعت فیو تھائی کو پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہے اس لیے بظاہر یہ تحریک ان کے خلاف زیادہ موثر نہیں ہوگی۔

وزیراعظم ینگ لک اپنا عہدہ چھوڑنے سے انکار کرتے ہوئے اپنے مخالفین کو مذاکرات کی پیش کش کر چکی ہیں۔

2010ء میں ہونے والے مظاہروں کے بعد یہ ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے مظاہرے ہیں۔

اُن مظاہروں میں کم ازکم نوے افراد اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب فوج نے برطرف وزیراعظم تھاکسن شیناواترا کے حامی مظاہرین کے خلاف کارروائیاں شروع کیں۔
XS
SM
MD
LG