رسائی کے لنکس

تھائی لینڈ: حکومت مخالف مطاہرین پھر سڑکوں پر


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

21 مارچ کو ملک کی آئینی عدالت کی طرف سے عام انتخابات کو کالعدم قرار دینے کے بعد یہ پہلا بڑا مظاہرہ تھا۔

ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین تھائی لینڈ کی وزیر اعظم ینگ لک شیناواترا سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ لیے دارالحکومت کی سڑکوں پر ایک بار پھر نکل آئے ہیں۔

پیپلز ڈیموکریٹک کمیٹی کے سیکرٹری جنرل سیتھپ تھاؤگوسوبان بنکاک میں رائل پارک سے ہفتہ کو شروع ہونے والے مظاہرے کی قیادت کررہے تھے۔

21 مارچ کو ملک کی آئینی عدالت کی طرف سے عام انتخابات کو کالعدم قرار دینے کے بعد یہ پہلا بڑا مظاہرہ تھا۔

مظاہرین وزیراعظم ینگ لک پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ اپنے بھائی تھاکسن شیناواترا کے اشاروں پر کام کررہی ہیں جنھیں عدالت کی جانب سے بدعنوانی پر سزا سناتے ہوئے وزیراعظم کے عہدے سے الگ کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ینگ لک استعفیٰ دے کر حکومت ایک غیر منتخب عبوری کونسل کو سونپ دیں جو کہ اداروں میں اصلاحات کرتے ہوئے سیاسی نظام کو بہتر بنائے۔

تھائی وزیراعظم پر الزامات ہیں کہ انہوں نے چاول پر مراعات سے متعلق پروگرام میں ہونے والی بدعنوانی کو نظرانداز کیا جس سے ملک کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔

پیر کو توقع کی جارہی ہے کہ وزیراعظم ینگ لک تھائی لینڈ کے انسداد بدعنوانی کے کمیشن کے سامنے پیش ہوکر اپنا دفاع کریں گی۔
XS
SM
MD
LG