رسائی کے لنکس

شہر میں اسپتالوں کی نگرانی کرنے والے ایراوان میڈیکل سنٹر کے مطابق احتجاج کرنے والوں میں شامل 52 سالہ شخص گولی لگنے سے ہلاک ہوا۔

تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں ایک پولیس افسر سمیت دو افراد ہلاک اور 60 زخمی ہوگئے۔

منگل کو شہر میں اسپتالوں کی نگرانی کرنے والے ایراوان میڈیکل سنٹر کے مطابق احتجاج کرنے والوں میں شامل ایک 52 سالہ شخص گولی لگنے سے ہلاک ہوا۔

اس سے قبل ایک پولیس افسر اس وقت سر میں گولی لگنے سے ہلاک ہو گیا جب حکام نے شہر کے مرکزی علاقے کی گلیوں سے حکومت مخالف مظاہرین کو ہٹانےکے لیے کارروائی شروع کی۔

تھائی لینڈ کی نیشنل پولیس کے سربراہ ادل سینگسنگیو نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ’’ایک پولیس اہلکار ہلا ک ہو گیا جب کے 14 اہلکار زخمی ہو گئے‘‘۔ انھو ں نے کہا کہ پولیس اہلکار کو سر میں گولی ماری گئی اور جب اُسے اسپتال لے جایا جا رہا تھا تو وہ راستے میں دم توڑ گیا۔

حکومت کے ہیڈ کوارٹر کے نزدیک تصادم کے دوران آنسو گیس، فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دونوں فریق ہتھیاروں کا استعمال کر رہے ہیں۔

دوسری طرف سیکورٹی حکام کا کہنا ہے کہ توانائی کی وزارت کی عمارت کو مظاہرین سے خالی کروا کے 10 لوگوں کو حراست میں بھی لے لیا گیا ہے لیکن اس دوران کسی تصادم کی اطلاع نہیں ملی ۔

گزشتہ سال کے اواخر سے حزب اختلاف کے مظاہرین نے حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے بنکاک میں سرکاری عمارتوں اور اہم چوراہوں پر قبضہ کر لیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ تشدد کا استعمال نہیں کرے گی لیکن اس کا اصرار ہے کہ کئی جگہوں کو مظاہرین سے خالی کروائے گی کیونکہ یہ ملک میں نافذ ہنگامی حالت کی خلاف ورزی ہے۔


مظاہرین پہلے ہی بنکاک میں ’گورنمنٹ ہاؤس‘ پہنچ چکے ہیں جہاں سے پولیس نے جمعہ کے روز ان کو ہٹایا تھا۔ منگل کے روز ٹیلی ویژن پر فسادات پر قابو پانے والی پولیس کے عہدیداروں اور مظاہرین کے رہنماؤں کو بات چیت کرتے ہوے دکھا یا گیا۔

گزشتہ نومبر سے کئی چھوٹی چھڑپوں اور مظاہرین پر حملوں کی وجہ سے 10 افراد ہلا ک ہو چکے ہیں۔2010 ء کے بعد سے تھائی لینڈ میں یہ بدترین سیاسی تشدد ہے۔

مظاہرین وزیراعظم ینگ لک شیناواترا کو مستعفی ہونے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت ’’بد عنوان‘‘ ہے اور ینگ لک کو دراصل ان کے ارب پتی جلاوطن بھائی اور سابق وزیر اعظم تھاکسن شیناواترا کنٹرول کر رہے ہیں۔

وزیراعظم ینگ لک نے رواں ماہ کے اوائل میں قبل از وقت انتخابات کروانے کی کوشش کی تھی جس سے ان کے بقول بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی لیکن حزب مخالف نے کئی صوبوں میں انتخابی عمل کا بائیکاٹ کیا جس کی وجہ سے حتمی انتخابی نتائج مرتب نہیں ہوسکے۔
XS
SM
MD
LG