رسائی کے لنکس

مظاہرین بنکاک میں معمولات زندگی معطل یعنی ’’شٹ ڈاؤن‘‘چاہتے تھے لیکن شہر کے بیشتر حصوں میں نظام زندگی معمول کے مطابق رواں دواں رہا۔

تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں منگل کو دوسرے روز بھی سڑکوں اور گلیوں میں مظاہرین کی بڑی تعداد موجود رہی اور یہ لوگ وزیراعظم ینگ لک شیناواترا سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

مظاہرین بنکاک میں معمولات زندگی معطل یعنی ’’شٹ ڈاؤن‘‘چاہتے تھے لیکن شہر کے بیشتر حصوں میں نظام زندگی معمول کے مطابق رواں دواں رہا۔ تاہم شہر میں ٹریفک عام دنوں کے نسبت کم تھی۔

کئی ہزار افراد بنکاک کی دیگر کئی سرکاری عمارتوں کے محاصرے کی طرح کسٹم کے محکمے کی عمارت کے باہر جمع ہوئے۔

وزیراعظم ینگ لک شیناواترا پارلیمنٹ کو تحلیل کر کے انتخابات دو فروری کو کرانے کا اعلان کر چکی ہیں جب کہ اُنھوں نے سیاسی بحران کے حل کے لیے قومی اصلاحاتی کونسل بنانے کی بھی تجویز دی۔

ینگ لک بدھ کو مظاہرین کے وفد اور دیگر سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں کر کے اُن سے الیکشن کمیشن کی طرف سے کی گئی اُس درخواست پر بات کریں گی جس میں انتخابات مئی تک ملتوی کرنے کا کہا گیا ہے۔

حزب مخالف کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی طرف سے کیے گئے اقدامات کافی نہیں ہیں۔

مظاہرین کے رہنما سیتھپ تھاؤگوسوبان نے پیر کو کہا تھا کہ وہ بنکاک میں اس وقت تک ’’شٹ ڈاؤن‘‘ جاری رکھیں گے جب تک ضروری ہوا۔

مسٹر سیتھپ تھاؤ گوسوبان کا کہنا ہے کہ ایک غیر جانبدار ’’پیپلز کونسل‘‘ موجودہ حکومت کی جگہ نظام سنبھالے جو سیاست میں پیسے کے استعمال اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے اصلاحات کرے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے اصلاحات کا یہ کام انتخابات سے قبل ہونا چاہیئے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی جماعت آئندہ انتخابات میں کامیاب ہو جائے گی، حزب مخالف کی جماعت آئندہ انتخابات کے بائیکاٹ کا ارادہ رکھتی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان میری ہارف نے پیر کو کہا تھا کہ کہ امریکہ نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ تشدد سے باز رہیں اور واشنگٹن تھائی لینڈ کی حکومت کی طرف سے اب تک طاقت کے استعمال سے باز رہنے کی پالیسی کو خوش آئند قرار دیتا ہے۔
XS
SM
MD
LG