رسائی کے لنکس

موسم کے ماہرین کو خدشہ ہے کہ تھر، تین سال میں تیسری مرتبہ قحط کا منہ دیکھے گا۔ باشندوں نے دل پر پتھر باندھ کر پھر نقل مکانی کا غم سہنا شروع کر دیا ہے۔ وہ بیل، گائے، بکریاں اور اونٹ، اونٹنیاں لے کر کسی محفوظ مگر انجانی جگہ کے لئے گھروں سے نکل چکے ہیں

سندھ میں سنہری دھوپ کی سر زمین ’تھر‘ میں زندگی نے پھر سسکنا شروع کر دیا ہے۔ وہی قحط کا موسم جو کچھ مہینے پہلے بھی قہر ڈھا چکا ہے، اب ایک مرتبہ پھر اس خطے پر برے وقت کی طرح منڈلا رہا ہے۔

اب کہ بھی ابر کرم کھل کر نہیں برسا۔۔اب کے بھی کسانوں کی فصلیں گندم کی بالیاں نہ اگل سکیں اور لگتا یوں ہے کہ گویا زندگی پھر ادھار کی سانسوں پر بسر ہونے جا رہی ہے۔

موسم کے ماہرین کو خدشہ ہے کہ تھر، تین سال میں تیسری مرتبہ قحط کا منہ دیکھے گا۔ باشندوں نے دل پر پتھر باندھ کر پھر نقل مکانی کا غم سہنا شروع کردیا ہے۔ وہ بیل، گائے، بکریاں اور اونٹ، اونٹنیاں لے کر کسی محفوظ مگر انجانی جگہ کے لئے گھروں سے نکل چکے ہیں۔

مٹھی، تھرپارکر اور دیگر علاقہ مکینوں کو امید تھی کہ اس بار قحط کو کسی کی ’نظر‘ ضرور لگے گی مگر ایسا نہیں ہوا۔ ضلعی انتظامیہ نے وعدہ کیا تھا کہ 15 اگست تک اس علاقے کو آفت زدہ قرار دے دیا جائے گا۔ مگر اب تک تو سندھ حکومت کو قحط کی رپورٹ تک نہیں بھیجی گئی، باقی باتیں تو درکنار ہیں۔

تھرپارکر میں یہ مسلسل تیسرا سال ہے جب بارشوں کا موسم بغیر برسے ہی گزر گیا۔ بروقت اور مطلوبہ مقدار میں بارشیں نہ ہونے کے سبب قحط کی صورتحال بر قرار ہے۔

محکمہٴموسمیات کے مطابق، کچھ علاقوں میں ہلکی بارش ہوئی ہے۔ لیکن، 80 فیصد علاقے اب بھی بارش سے محروم ہیں۔ مزید بارش نہ ہونے کی وجہ سے مختلف فصلوں کے بیج ضائع ہونے کا خدشہ پیدا ہو چلا ہے۔ رتیلی اور خشک ہوا کے باعث گھاس بھی ریت میں دب گئی ہے۔

پچھلی صدی میں انگریزوں کی جانب سے بنائے گئے قانون کے تحت تھر میں 15 اگست تک بارشیں نہ ہونے کی صورت میں تھرپارکر کو آفت زدہ علاقہ قرار دے کر امدادی سرگرمیاں شروع کردی جاتی ہیں۔ لیکن، سندھ اور ضلعی حکومت کی غیر سنجیدگی کے باعث اس قانون پر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہو سکا۔

ڈپٹی کمشنر، اسٹنٹ ڈپٹی کمشنر اور سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے بنائی گئی ریلیف کمیٹی کے انچارج میاں فیض ربانی تسلیم کرتے ہیں کہ سندھ حکومت کو بلاتاخیر تھرپارکر کو آفت زدہ علاقہ قرار دے کر امدادی سرگرمیاں شروع کردینی چاہئیں۔ لیکن، ابھی تک یہ اعلان نہیں ہوسکا۔

تھرپارکر میں رواں سال، مگر کچھ عرصہ پہلے، قحط کے باعث سینکڑوں بچے ہلاک ہوچکے ہیں۔ جبکہ، ہزاروں مویشی بھی بھوک اور بیماریوں کے باعث زندگی کی جنگ ہار چکے ہیں۔

تھر کی صورتحال پر کراچی میں سیمینار
تھر میں قحط کے حوالے سے نیشنل ہیومینییٹیرین نیٹ ورک کے تحت رواں ہفتے ہی کراچی میں ایک سیمینار بھی ہو چکا ہے، جس میں ریسرچرز اور سماجی کارکنوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔

سیمینار میں شریک ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ڈاکٹر، ولی محمد کا کہنا تھا کہ ’تھرمیں شیرخوار بچوں، ماوٴں اور بزرگوں کی جان بچانے کے لئے ضروری ہے کہ دستیاب وسائل کو بھرپور انداز میں استعمال کیا جائے، اور اگر ایسا نہ ہوا تو حالات خوفناک ہوسکتے ہیں۔‘

سرتاج عباسی نے جو این ایچ این سندھ چیپٹر کے صوبائی کوآرڈینیٹر ہیں، بتایا کہ ’تھر اور قحط سے متاثرہ دوسرے علاقوں کی صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔ حکومت قحط زدہ لوگوں تک امداد کی بروقت فراہمی کو یقینی بنائے۔‘

ایک اور سماجی کارکن، شاہ جہاں بلوچ کا کہنا تھا کہ، ’حکومت کو نئی قانون سازی کے انتظار میں وقت ضائع کرنے کے بجائے موجودہ پالیسی کے تحت قحط سے متاثرہ افراد کو فوری طور پر ہنگامی امداد دینی چاہئے۔‘

XS
SM
MD
LG