رسائی کے لنکس

مارگریٹ تھیچر کے سیاسی ورثے پر بحث

  • آندرے نیسنیرا

مارگریٹ تھیچر

مارگریٹ تھیچر

کنزرویٹو پارٹی کے ایک برطانوی مورخ ٹم بالے کہتے ہیں کہ مسز تھیچر وہ پہلی مغربی لیڈر تھیں جنھوں نے اس حقیقت کا ادراک کیا کہ ہو سکتا ہے کہ میخائل گوربا چوف مختلف قسم کے سوویت سیاستداں ہوں۔

برطانیہ کی سابق وزیرِ اعظم مارگریٹ تھیچر کی آخری رسوم لندن میں اگلے ہفتے ادا کی جائیں گی ۔ بہت سے ماہرین اور مورخ اب یہ بحث کر رہےہیں کہ انھوں نے ، خاص طور سے بین الاقوامی میدان میں، کیا ترکہ چھوڑا ہے ۔

ماہرین کہتے ہیں کہ مارگریٹ تھیچر کو سب سے زیادہ جس چیز کے لیے یاد رکھا جائے گا وہ آزاد منڈی کے وہ جرأت مندانہ اقتصادی اقدامات تھے جو انھوں نے اپنے گیارہ سالہ دورِ حکومت میں کیے۔ ان اقدامات کی وجہ سے برطانیہ میں اقتصادی انقلاب آ گیا۔ لیکن انھوں نے بین الاقوامی امور میں بھی اہم کردار ادا کیا، خاص طور سے سوویت یونین اور مغربی دنیا کے درمیان سرد جنگ کی کشیدگیوں کے دور میں۔

کنزرویٹو پارٹی کے ایک برطانوی مورخ ٹم بالے کہتے ہیں کہ مسز تھیچر وہ پہلی مغربی لیڈر تھیں جنھوں نے اس حقیقت کا ادراک کیا کہ ہو سکتا ہے کہ میخائل گوربا چوف مختلف قسم کے سوویت سیاستداں ہوں۔ ’’1979 میں بر سرِ اقتدار آنے کے بعد، انھوں نے انتہائی سخت کمیونسٹ مخالف رویہ اختیار کیا، اور وہ سوویت قیادت سے کوئی سرو کار رکھنا نہیں چاہتی تھیں۔ لیکن انھوں نے جلد ہی سمجھ لیا کہ میخائل گوربا چوف مختلف قسم کے لیڈر ہیں۔ انھوں نے ان کے ساتھ تعلقات بڑھائے، اگرچہ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ لوگ شاید ان کی سادہ لوحی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔‘‘

دسمبر 1984 میں، سوویت لیڈر بننے سے تین مہینے پہلے، مسٹر گورباچوف ایک پارلیمانی وفد کے سربراہ کی حیثیت سے لندن میں تھے ۔ انہیں مارگریٹ تھیچر سے ملنے کی دعوت دی گئی۔ بعد میں مسز تھیچر نے کہا کہ یہ ایسے شخص ہیں جن کے ساتھ ہم معاملہ کر سکتے ہیں۔

ماؤنٹ ہولی اوک کالج میں روس کے امور کے ماہر اسٹیفن جونز کہتے ہیں کہ یہ الفاظ انتہائی اہم تھے ۔ ’’ میں ایک مضمون پڑھ رہا تھا جو گوربا چوف نے ان کی وفات کے بارے میں لکھا ہے ۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس فقرے سے مغربی لیڈروں میں مجھے اپنا اعتبار بڑھانے میں مدد ملی۔ انھوں نے سوچا کہ اگر مارگریٹ تھیچر ان کے ساتھ معاملہ کر سکتی ہیں، تو یورپ کی بقیہ قیادت کے لیے، اور امریکی قیادت کے لیے بھی ایسا کرنا ممکن ہونا چاہیئے ۔ غرض یہ کہ دنیا کو مخائل گورباچوف کے لیے تیار کرنے میں، یہ بڑا اہم قدم تھا۔‘‘

صدر رونلڈ ریگن کے ساتھ بھی مسز تھیچر کے بڑے قریبی تعلقات تھے۔ صدر ریگن کے دور میں قومی سلامتی کے مشیر، رچرڈ ایلن بہت سے مواقع پر مسز تھیچر سے ملے۔ وہ کہتے ہیں’’میں انہیں اس صدی کی ایک انتہائی اہم شخصیت سمجھتا ہوں ۔ وہ اپنے کام سے انتہائی مخلص، بڑی ذہین، اور با اصول شخصیت تھیں ۔ بیشتر امریکی ان کے مداح تھے ۔ وہ بڑی شائستہ اور ہمیشہ سنجیدہ رہنے والی خاتون تھیں ۔ یہی وجوہات تھیں کہ رونلڈ ریگن کے لیے ان کی شخصیت ، داخلی معاملات میں نیز خارجہ پالیسی میں اتنی پُر کشش تھی۔‘‘

مورخ ٹم بالے کہتے ہیں ’’رونلڈ ریگن کے ساتھ مل کر، انھوں نے ہتھیاروں پر خر چ میں اضافہ کر دیا جس کے نتیجے میں بالآخر سوویت یونین کا دیوالہ نکل گیا، اور اسے وسطی اور مشرقی یورپ میں اپنی سلطنت کو چھوڑنا پڑا اور پھر بالآخر اس کا خاتمہ ہو گیا۔‘‘

سوویت یونین کے ساتھ کس طرح نمٹا جائے، اس بارے میں مارگریٹ تھیچر اور رونلڈ ریگن مکمل طور سے ہم خیال تھے۔ لیکن جرمنی کے متحد ہونے کے سوال پر، مارگریٹ تھیچر نے صدر جارج ایچ ڈبلو بش کے ساتھ اختلاف کیا۔

ریٹائرڈ جنرل برنٹ اسکاؤکروفٹ اس وقت مسٹر بُش کے قومی سلامتی کے مشیر تھے ۔ وہ کہتے ہیں ’’ ہم اور مغربی جرمنی کے چانسلر Helmut Kohl اور بیشتر جرمن ہی ایسے لوگ تھے جو جرمنی کو متحد دیکھنا چاہتے تھے ۔ سوویت یونین ایسا نہیں چاہتا تھا۔ فرانسیسی بھی یہ نہیں چاہتے تھے اور برطانیہ کی مارگریٹ تھیچر نے کہا: میں جرمنی کو اتنا زیادہ پسند کرتی ہوں کہ میرے خیال میں دو جرمنی ہونے ضروری ہیں۔ اس پورے عمل میں توازن پیدا کرنا ضروری تھا جس کے نتیجے میں جرمنی متحد ہو گیا جب کہ دنیا کی بیشتر طاقتیں اس کے حق میں نہیں تھیں۔‘‘

کولمبیا یونیورسٹی کے رابرٹ لیگوولڈ کہتے ہیں کہ مسز تھیچر کو فکر یہ تھی کہ یورپ کے اندر جرمنی کہیں بہت زیادہ طاقتور نہ ہو جائے ۔ ’’جرمن جانتے تھے کہ برطانیہ اور فرانس کو جرمن کی دوبارہ متحد ہونے کے امکان پر پریشانی اور گھبراہٹ ہے۔ لیکن مسز تھیچر نے اسے اپنی آن کا سوال نہیں بنایا اور پھر جب یہ عمل خودبخود چل پڑا اور خود اپنی رفتار سے مکمل ہو گیا، تو انھوں نے اس میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش نہیں کی۔‘‘

ماہرین متفق ہیں کہ مسز تھیچر بیسویں صدی کی قد آور لیڈر تھیں، اور جیسا کہ اخبار فنانشل ٹائمز نے لکھا ہے، کہ وہ آج بھی ایسی شخصیت ہیں جن کے پیمانے سے بعد کے تمام برطانوی سیاست دانوں کی پیمائش کی جانی چاہیئے۔
XS
SM
MD
LG