رسائی کے لنکس

سائنس کے مطابق آپ کونسی عمر میں زیادہ مقبول ہوتے ہیں؟


فال فوٹو

فال فوٹو

تجزیہ سے یہ بات سامنے آئی کہ ایک شخص کی طرف سے موبائل فون پربات چیت کرنے والے لوگوں کی اوسط تعداد 25سال کی عمر میں سب سے زیادہ ہوتی ہے

ہوسکتا ہے کہ آپ اپنےخاندان اور دوستوں کےحلقے میں خاصے مقبول ہوں لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ کونسی عمر ہوتی ہےجب ہم زیادہ دوست بناتے ہیں اور اپنے ملنے جلنے والوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ تعلقات بڑھاتے ہیں؟

اگر آپ کوئی قیاس لگانا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو سائنسی ماہرین کے اندازے کے بارے میں بتا دیتے ہیں جن کا کہنا ہے کہ ہم 25 سال کی عمر میں اپنے سماجی حلقے میں سب سے زیادہ مقبول ہوتے ہیں۔

حال ہی میں جریدہ 'رائل سوسائٹی اوپن سائنس' میں شائع ہونے والی ایک تحقیق سے یہ دریافت ہوا کہ ہمیں 25 سال کی عمر میں جتنی جان پہچان ملتی ہے اتنی مقبولیت ہمیں اپنی زندگی میں پھرکبھی حاصل نہیں ہوتی ہے۔

تحقیق کے مطابق نوجوانوں میں رابطوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اور یہ وہ عمر ہوتی ہے جب ہمارے سماجی حلقے میں ہمارے دوستوں اور ملنے جلنے والوں کی تعداد خاصی ہوتی ہے۔

یونیو رسٹی آف آکسفورڈ اور آلٹو یونیورسٹی اسکول آف سائنس کے زیر اہتمام مطالعے کے لیے محققین کی ٹیم نے یورپی ٹیلی کال سروس کے 32 لاکھ موبائل فون صارفین کی ایک سال کی فون کالز کے ریکارڈ کا تجزیہ کیا ہے۔

محققین کے تجزیہ سے یہ بات سامنے آئی کہ ایک شخص کی طرف سے موبائل فون پربات چیت کرنے والے لوگوں کی اوسط تعداد 25سال کی عمر میں سب سے زیادہ ہوتی ہے اور اس کے بعد 45 سال کی عمر تک باقاعدہ سماجی رابطوں میں تیزی سے کمی ہوتی ہے۔

تحقیق سے ظاہر ہوا کہ انسان کے سماجی رویے جنس اور عمر سے متعلق ہوتے ہیں جیسا کہ بڑھتی عمر کے ساتھ ہم اپنے سماجی تعلقات کو محدود کر لیتے ہیں یہاں تک کہ 70 سال کی عمر میں ہمارا حلقہ احباب کم ہوکر تقریباً 9 افراد تک محدود ہو جاتا ہے۔

تحقیق کے مصنفین محقق کنال بھٹا چاریا اور محقق عاصم گھوش اور ان کی ٹیم نے کہا کہ کا ایک اہم نتیجہ جو ہمارے سامنے آیا وہ یہ تھا کہ 25 سال کی عمر میں رابطوں کی اوسط تعداد بہت معمولی تھی اور فون کی بنیاد پر لوگوں نے ایک مہینے کے دوران کم از کم 15 لوگوں سے بات چیت کی تھی۔

محققین نے کہا کہ عام طور پر ہم ایک مہینے میں جتنے دوستوں اور خاندان کے لوگوں سے روبرو ملاقات کرتے ہیں، فون پر بات چیت کرنے والوں کی تعداد اس سے ملتی جلتی ہے۔

محققین نے لکھا کہ ''ہم نے کچھ ثبوت فراہم کیے ہیں کہ موبائل فون ٹیکنالوجی کا استعمال سماجی دنیا کو تبدیل نہیں کرتا ہے اور مزید بالواسطہ ثبوت یہ بتاتے ہیں کہ فون پر عام طور پر بات چیت انہی لوگوں سے کی جاتی ہے جن سے ہم جذباتی طور پر قریب ہوتے ہیں ناکہ ان لوگوں سے جو ہم سے بہت دور رہتے ہیں''۔

محققین کے مطابق لوگوں کے موبائل فون کالز کے ریکارڈ سے دیکھا گیا ہے کہ لوگوں کی زندگیوں میں سماجی روابط کےحوالے سے اتار چڑھاؤ رہتا ہے مثلاً 16 سال کے بعد اور 25 سال کی عمر میں ہمارے سماجی تعلقات خوب پھلتے پھولتے ہیں۔

اس کے بعد 30 اور 40 برس کے درمیانی عرصے میں ہمارا سماجی حلقہ چھوٹا ہونے لگتا ہے جیسا کہ لوگ اس عمر میں شادی، گھر اور بچوں کی ذمہ داریوں میں مصروف ہوتے ہیں۔

اور چالیس سال کے وسط میں تعلقات میں جو کمی ہونی شروع ہوئی تھی وہ رک جاتی ہے اور اس حوالے سے محققین کا کہنا ہے کہ چونکہ عام طور پر اس عمر میں بچوں کی شادیاں کردی جاتی ہیں لہذا والدین بچوں سے تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کے سسرال کے ساتھ سماجی تعلقات کو بڑھاتے ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق تحقیق سے یہ دلچسپ بات سامنے آئی کہ مرد بیس سے 25 برس کے دوران عورتوں کے مقابلے میں زیادہ سماجی رابطے رکھتا ہے۔

لیکن تقریباً 39 سال کی عمر میں یہ رجحان الٹا دکھائی دیتا ہے اور باقی زندگی میں عورتیں زیادہ سماجی روابط بڑھاتی ہیں۔

تحقیق کے مطابق بنیادی طور پر اس صنفی فرق کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ مرد کے مقابلے میں عورت کی طرف سے اپنی جوان اولاد اور اس کی اہلیہ اور بچوں سے زیادہ رابطہ کیا جاتا ہے۔

ایک ممکنہ وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اکثر اس عمر میں بچوں کی دادی اور نانی اپنے قریبی ملنے جلنے والوں کو اپنے بچوں کے بچوں کی سرگرمیوں کی کہانیاں سنانے کے لیے بھی زیادہ فون کالیں کرتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG