رسائی کے لنکس

بچوں پر جنسی تشدد کے واقعات میں اضافہ: رپورٹ

  • ستار کاکڑ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

بچوں پر جنسی تشدد کی روک تھام کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم “ساحل“ کے مطابق یکم جنوری سے 31 دسمبر 2015 تک ملک بھر میں بچوں پر جنسی تشدد کے کل 3768 واقعات ر یکارڈ کیے گئے اور ان بچو ں کی عمریں 11 سے 15 سال کے درمیان تھیں۔

پاکستان میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم کارکنوں نے بچوں پر ہونے والے جنسی تشدد میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاق سمیت چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کی حکومت سے اس ضمن میں فوری اور موثر اقدام کرنے پر زور دیا ہے۔

بچوں پر جنسی تشدد کی روک تھام کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم “ساحل“ کے صوبہ بلوچستان میں عہدیدار راحب بلیدی نے وائس اف امر یکہ کو بتایا کہ یکم جنوری سے 31 دسمبر 2015 تک ملک بھر میں بچوں پر جنسی تشدد کے کل 3768 واقعات ر یکارڈ کیے گئے اور ان بچو ں کی عمریں 11 سے 15 سال کے درمیان تھیں۔

ان کے بقول روزانہ تقریباً 10 بچے کہیں نہ کہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں اور یہ شرح سال 2014 کے مقابلے میں زیادہ ہے جب کہ جنسی تشدد کا نشانہ بنانے والوں میں قابل ذکر تعداد ان لوگوں کی تھی جو متاثرہ بچوں سے واقفیت رکھتے تھے۔

’’زیادتی کے واقعات چاروں صوبوں، آزاد کشمیر و گلگت بلتستان، وفاقی دارالحکومت اسلام اباد سے ریکارڈ کیے گئے جس میں پنجاب میں 2616، سندھ 638، بلوچستان 207، اسلام آباد میں 167، خیبر پختونخوا میں 113، گلگت بلتستان اور فاٹا سے تین، تین کیسز ریکارڈ ہوئے، بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کرنے والوں میں زیادہ تعداد 1943 ان افراد کی ہے جو بچوں سے واقفیت رکھتے ہیں۔‘‘

راحب بُلیدی کا کہنا تھا کہ 2015 میں جنسی تشدد کا نشانہ بننے والوں 1974 بچیاں اور 1794 لڑکے شامل ہیں۔

انھوں نے ایسے واقعات میں اضافے کو روکنے کے لیے موجودہ قوانین پر عملدرآمد اور مزید قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا۔

’’جو ہمارے حقائق سے متعلق اعداد و شمار تھے جو رپورٹس تھیں وہ ہم نے ارکان پارلیمنٹ تک پہنچائے ہیں اور جو قانون ساز ادارے ہیں اُن کے ساتھ بھی ہم نے رابطہ کیا ہے ہم یہ کہتے ہیں کہ بچوں پر جنسی تشدد کے کیسز میں جو کم سے کم سزا ہے جو انھوں نے تجویز کی تھی وہ تین سال سے زیادہ نہیں ہے ہم یہ کہتے ہیں کہ اس کی سزا دس سال سے زیادہ ہونی چاہیے۔‘‘

اس پر پورے ملک میں شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا اور حکومت نے بچوں کے تحفظ کے لیے موثر اقدام کرنے کا یقین دلایا۔

XS
SM
MD
LG