رسائی کے لنکس

پاکستان میں بدعنوانی کی شرح کم ہوئی: ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے لیے پاکستان میں مشیر عادل گیلانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس نمبر میں بہتری کی وجہ ملک میں اداروں کی طرف سے بدعنوانی کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی ہے۔

بدعنوانی پر نظر رکھنے والی ایک موقر بین الاقوامی تنظیم "ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل" کی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں سرکاری سطح پر بدعنوانی میں کمی دیکھی گئی ہے اور خطے کے دیگر ممالک کی نسبت اس کے نمبر میں بہتری آئی ہے۔

دنیا کے 168 ممالک میں بدعنوانی سے متعلق ماہرانہ آرا پر مشتمل رپورٹ بدھ کو جاری کی گئی جس میں بتایا گیا کہ خطے کے دیگر ملکوں میں سے پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں شفافیت میں بہتری آئی جب کہ دیگر ممالک کا نمبر یا تو وہی رہا یا پھر اس میں تنزلی دیکھی گئی۔

اس فہرست میں سب سے کم نمبر بدعنوان ترین ملک کو ظاہر کرتا ہے جب کہ زیادہ نمبر بدعنوانی میں تنزلی کو ظاہر کرتے ہیں۔

اس فہرست میں پاکستان کا نمبر تیسواں ہے جب کہ 2014ء میں اس کا نمبر 29 تھا۔ اس کے پڑوسی ملک افغانستان کا نمبر گیارہواں ہے۔

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے لیے پاکستان میں مشیر عادل گیلانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس نمبر میں بہتری کی وجہ ملک میں اداروں کی طرف سے بدعنوانی کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی ہے۔

"اس کی بہتری کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں اس وقت جو چل رہا ہے وزیر اعظم نے عدم برداشت کرپشن کی پالیسی کا اعلان کیا ہے ابھی تو اس پر پورا عمل نہیں ہو رہا صرف اعلان ہی ہے۔ وہی ہمارے راحیل شریف صاحب ہیں انھوں نے بھی کرپشن کے خلاف اعلان کر رکھا ہے چیئرمین نیب نئے آئے ہیں تین سال سے انھوں نے بھی کرپشن پر عدم برداشت کیا ہے۔ سپریم کورٹ کام کر رہی ہے ان اداروں کے کام کرنے کی وجہ سے ان انٹرنیشنل اداروں کو پتا چلا ہے کہ پاکستان کی حکومت کے جو ادارے ہیں وہ سنجیدہ ہیں کرپشن کو ختم کرنے میں اس وجہ سے بہتری آئی ہے۔ "

تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس سے بھی زیادہ بہتری لا سکتا تھا اور اسے اس ضمن میں مزید کوشش کرنی چاہیئے۔

"جیسا ہمارا ایف بی آر ہے وہ صرف ڈھائی ہزار ارب روپے کا ٹیکس جمع کرتا ہے پورے سال کا جو کہ ساڑھے سات ہزار ارب ہو سکتا ہے اور وہ نہیں جمع کرتا کرپشن کی وجہ سے تو یہ چیز ہے جو ہم بتا رہے ہیں جو ہم نے وزیر اعظم کو تجاویز دی ہوئی ہیں اگر اس پر عمل کریں گے تو ہماری انڈکس اور بہتر ہو سکتی ہے۔"

ملک میں بدعنوانی سے متعلق اکثر شکایات سامنے آتی رہتی ہیں اور اعلیٰ شخصیات کی طرف سے بھی اس سماجی مسئلے کا تذکرہ کیا جاتا رہا ہے کیونکہ اس سے جہاں ایک طرف معاشرتی مساوات متاثر ہوتی ہیں وہیں ملکی معیشت کو بھی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

پاکستان کے صدر ممنون حسین نے بھی بدھ کو اس مسئلے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار ترقی کے لیے بدعنوانی کو ختم کرنا ہو گا۔

’’میں اپنے نوجوانوں کو یہ تلقین کرنا چاہتا ہوں کہ یہ بدعنوانی اور کرپشن نے پاکستان کو دیمک کی طرح چاٹا ہے میں اپنے بچوں کو یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ یہ بات گرہ میں باندھ لیں کہ اگر پاکستان نے آگے بڑھنا ہے تو اس کرپشن اور بدعنوانی کو لگام دینا ہے اور اچھے اچھے منصوبے اس ملک میں شروع جبھی ہوں گے جب ہم کرپشن اور بدعنوانی کو لگام دیں گے اور اپنے وسائل کو ضائع ہونے سے بچائیں گے یا لوٹ مار سے بچائیں گے تبھی ہم آگے بڑھ سکیں گے۔‘‘

ٹرانسپرنسی کی تازہ رپورٹ کے مطابق دنیا میں صومالیہ اور شمالی کوریا بدعنوان ترین ملک ہیں جب کہ ڈنمارک کی بدعنوانی کی شرح سب سے کم ہے اور اس کا نمبر 91 ہے۔

XS
SM
MD
LG