رسائی کے لنکس

پاکستان: حالیہ بارشوں سے ہلاکتوں کی تعداد 92 ہو گئی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

محکمہ موسمیات کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ اور رواں ماہ میں ہونے والی معمول سے زیادہ بارشوں کی وجہ گزشتہ سال شروع ہونے والا غیر معمولی موسمی عمل النینو ہے جو ان کے بقول اب زوال پزیر ہے۔

صوبہ خیبر پختونخواہ، شمالی علاقے گلگت بلتسان اور پاکستان کے زیر اتنظام کشمیر میں حالیہ بارشوں کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد 92 تک پہنچ گئی ہے۔

ان میں زیادہ تر ہلاکتیں مکانوں کی چھتیں گرنے، مٹی کے تودوں اور سیلاب میں بہہ جانے کی وجہ سے ہوئیں۔

اختتام ہفتہ شروع ہونے والی موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ تین روز تک جاری رہا جو نا صرف جانی نقصان کا باعث بنا بلکہ اس کی وجہ سے متاثرہ علاقوں میں سکیڑوں مکانات جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہو گئے اور کئی رابطہ سڑکیں بھی بہہ گئیں۔

سب سے زیادہ ہلاکتیں صوبہ خیبر پختونخواہ میں ہوئیں جہاں بدھ کو بھی امدادی کارکن مٹی کے ملبے تلے دب جانے والے متعدد افراد کی تلاش کا کام کر رہے ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخواہ کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے ترجمان لطیف الرحمن نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ بارشوں کی وجہ سے صوبے بھر میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 62 ہوگئی ہے۔

لطیف الرحمن نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں تاہم جن علاقوں میں رابطہ سڑکیں بہہ گئی ہیں وہاں تک رسائی میں مشکل پیش آرہی ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں ہیلی کاپٹر کی مدد سے امدادی سامان پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

دوسری طرف پاکستان کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے کے مطابق ہفتے کو شروع ہونے والی بارشوں کی وجہ سے شمالی علاقے گلگت بلتسان میں 15 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 12 ہو گئی ہے۔

پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جو حالیہ سالوں میں موسمیاتی تغیر سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہے۔ ایسے غیرمعمولی واقعات میں ناصرف سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے بلکہ لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلوں کے تباہ ہونے سے ملکی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان بھی ہوا۔

رواں سال مارچ میں پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخواہ اور قبائلی علاقوں میں ہونے والی موسلا دھار بارشوں کی وجہ سے لگ بھگ 120 افراد ہلاک ہوئے۔

محکمہ موسمیات کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ اور رواں ماہ میں ہونے والی معمول سے زیادہ بارشوں کی وجہ گزشتہ سال شروع ہونے والا غیر معمولی موسمی عمل النینو ہے جو ان کے بقول اب زوال پزیر ہے۔

XS
SM
MD
LG