رسائی کے لنکس

تحقیق پر مبنی جریدہ 'سوشل سائیکولوجیکل اینڈ پرسنالٹی سائنس' کی اشاعت سے پتا چلتا ہے کہ سیلفی کے جنون میں مبتلا افراد اکثر اپنی سیلفی میں خود کو دوسروں کےخیال سے کہیں زیادہ پرکشش اور پسندیدہ دیکھتے ہیں۔

گزشتہ چند برسوں میں سیلفی کھینچنا اور پھر اسے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنا ہر عمر کے لوگوں کا انتہائی مقبول شوق بن گیا ہے لیکن سیلفی کے بڑھتے ہوئے رجحان کےحوالے سے سائنس دانوں کی طرف سے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے جن کا کہنا ہے کہ سیلفی سے لوگوں کی نفسیات پر گہرا اثر پڑ رہا ہے۔

اسی حوالے سے شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ سیلفی لینے والوں میں اپنے ظاہری شخصیت کے بارے میں خوش فہمی کا احساس پایا جاتا ہے، جو انھیں مغرور بنا رہا ہے۔

ٹورنٹو یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات سے منسلک سائنس دان ڈاکٹر ڈینئیل ری اور ان کے ساتھی تحقیق کار نکولس او رول نے کہا کہ یہاں ہم نے لوگوں کے جانبدارانہ نظریات کی انتہائی مقبول رجحان سیلفی کے تناظر میں جانچ پڑتال کی ہے اور اس مطالعے کے لیے باقاعدگی سے سیلفی لینے والے افراد اور کبھی کبھار سیلفی لینے والوں کے خود کے بارے میں تصورات کا تجزیہ کیا ہے۔

تحقیق پر مبنی جریدہ 'سوشل سائیکولوجیکل اینڈ پرسنالٹی سائنس' کی اشاعت سے پتا چلتا ہے کہ سیلفی کے جنون میں مبتلا افراد اکثر اپنی سیلفی میں خود کو دوسروں کےخیال سےکہیں زیادہ پرکشش اور پسندیدہ دیکھتے ہیں۔

مطالعے کے لیے محققین نے 198 کالج کے طلبہ کو شامل کیا،جن میں سے 100 طالب علم سیلفی لینے کے جنون میں مبتلا تھے اور 98 طلبہ نے بتایا کہ انھیں سیلفی کا شوق نہیں ہے۔

ٹورنٹو یونیورسٹی میں شعبہ نفسیات سے وابستہ تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر ڈینئیل ری اور ان کے ساتھی محققین کی ٹیم نے ایک تجربے کے دوران شرکاء سے ان کے موبائل فون کے کیمرے سے سیلفی لینے کے لیے کہا اس کے علاوہ ایک شخص کی طرف سے بھی ان کی تصاویر لی گئیں۔

محققین نے شرکاء کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنی تصاویر کی درجہ بندی کریں کہ اگر وہ سوشل میڈیا پر ان تصاویر کو اپ لوڈ کرتے ہیں تو ان کی سیلفی کو کتنا پسند کیا جائے گا جبکہ ان کی تصاویر کی 178 افراد کی جانب سے بھی درجہ بندی کی گئی جو تحقیق میں شامل نہیں تھے۔

باقاعدگی سے سیلفی لینے والے شرکاء نے توقع ظاہر کی کہ لوگ انھیں سیلفی میں زیادہ پرکشش اور پسند کریں گے ان تصاویر کے مقابلے میں جو دوسرے افراد کی طرف سے کھینچی گئی تھیں۔

تاہم لوگوں کی رائے ان کے اندازوں سے برعکس تھی، حقیقت یہ تھی کہ بیرونی افراد کی جانب سے ان کی سیلفی کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا تھا اور سیلفی میں انھیں کم پسندیدہ اور کم پرکشش بتایا گیا۔

اور ان تصاویر کے مقابلے میں جو دوسروں نے اتاری تھیں سیلفی میں انھیں خود پرست کے طور پر دیکھا گیا۔

محققین نے کہا کہ سیلفی کے شوقین اور شازونادر سیلفی کھینچنے والے شرکاء دونوں نے اپنی سیلفی کو دوسروں کی نظروں سے زیادہ بہتر خیال کیا تھا اور سیلفی کے حوالے سے دونوں نے خود پرستی کی ایک ہی جیسی سطح کا مظاہرہ کیا تھا۔

محقق ڈاکٹر ڈینئل ری نے نتائج کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ لوگوں میں اکثر اپنی مثبت خصوصیات کے حوالے سے خود کو اوسط افراد سے زیادہ خیال کیا جاتا ہے جبکہ اس طرح کے رجحان کو 'سیلف فیورنگ بائیس' یا خود غرضی کا نام دیا جاتا ہے۔

مزید برآں پچھلے مطالعوں سے ایسے ثبوت ملے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ انسان میں خود غرضی کی صفت ایسے حالات میں زیادہ مضبوط ہو سکتی ہےجب وہ اپنے فیصلوں کے لیے زیادہ خود مختار ہوتا ہے۔

اور اس تعریف کے مطابق ایک سیلفی آپ کو یہ ذاتی کنٹرول فراہم کرتی ہے کہ آپ دنیا کے سامنے خود کو کس طرح سے پیش کر سکتے ہیں اور یہ جانبدارانہ نظریات کے پنپنے کے لیے ایک آئیڈیل صورت حال بن جاتی ہے۔

محققین نے کہا کہ عام طور پر سیلفی کے شوقین افراد فلیٹرنگ تصاویر یا معمول کی ظاہری شخصیت سے زیادہ بہتر تصاویر کھنچنے کی حکمت عملی اپناتے ہیں جو ان کے لیے زیادہ موثر ثابت نہیں ہوتی ہے جیسا کہ وہ سوچتے ہیں۔

محققین کی رائے یہ بھی ہے کہ سوشل میڈیا پر اپنی سیلفی یا تصاویر شیئر کرنے پر لوگوں کو دوستوں کی طرف سے لائکس ملتے ہیں جس سے ان کے مغرور احساس کو تقویت ملتی ہے۔

تاہم تحقیق سے نتائج اخذ کرتے ہوئے محققین نے کہا کہ سیلفی لینے والوں کےخود کے بارے میں غلط فہمی کے تصورات نے، ان کی مثبت خوبیوں کو اندازوں سے کہیں زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا تھا، جس کی وجہ سے ان میں قابل ذکر مغروریت کا احساس پیدا ہوا تھا۔

XS
SM
MD
LG