رسائی کے لنکس

اس بار کا فیسٹیول 24 مختلف کھیلوں سے سجا ہے ۔ ڈراموں کی تعداد میں ہر سال اضافہ فیسٹیول میں لوگوں کی بڑھتی دلچسپی کا مظہر ہے ۔یہ فیسٹیول اب تک کا سب سے بڑا فیسٹیول ہے۔

کراچی اگلے تقریباً تین ہفتوں تک فلسطینی، نیپالی، امریکی اور جرمنی کے ٹاپ کلاس اسٹارز، کوریوگرافر، ڈانسر ز اور میوزیشنزکا مسکن بنا رہے گا۔

’نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس ‘ یعنی ناپا میں منعقد ہونے والا ’ بین الاقوامی تھیٹر اینڈ میوزک فیسٹیولـ ‘جمعرات سے شروع ہو گیا ہے۔

اگرچہ فیسٹیول میں بھارت کا کوئی تھیٹر گروپ شرکت نہیں کر رہا لیکن پہلی مرتبہ فلسطینی تھیٹر گروپ ’ فری ڈم ‘ اس میں پرفارم کر رہا ہے ۔

سولہ مارچ سے دو اپریل تک جاری رہنے والے اس فیسٹیول میں 24 کھیل پیش کئے جائیں گے جن میں سے بعض کھیل میوزیکل پرفارمنس ہیں۔

ناپا کے آرٹسٹک ڈائریکٹر زین احمد نے وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں بتایا کہ تھیٹر فیسٹیولز کا سلسلہ سن 2012 سے شروع ہوا، پہلے سال چھ ڈرامے پیش کئے گئے تھے جبکہ اس بار کا فیسٹیول 24 مختلف کھیلوں سے سجا ہے۔ ڈراموں کی تعداد میں ہر سال اضافہ فیسٹیول میں لوگوں کی بڑھتی دلچسپی کا مظہر ہے۔ اس بار کا فیسٹیول اب تک کا سب سے بڑا فیسٹیول ہے۔

ناپا کے ہی پروگرام ڈائریکٹر ارشد محمود کا کہنا ہے ’’ تھیٹر فیسٹیول کا مقصد لوگوں کو زیادہ سے زیادہ گھروں سے نکال کر تھیٹر کی طرف لانا ہے اگر ہم لوگوں کو ٹی وی اسکرین کے سامنے سے ہٹا کر تھیٹر میں لے آئے تو یہ بڑی کامیابی ہے۔ کچھ سال پہلے تک تو یہ رجحان تھا ہی نہیں ۔‘‘

فیسٹیول میں پیش کئے جانے والے بیشتر مقامی کھیلوں کو ناپا میں آرٹس اور پرفارمنس کی تعلیم دینے والے ٹیچرز نے ڈائریکٹ کیا ہے جن میں اکبر اسلم، عظمیٰ سبین ،زین احمد اور ناپا سے گریجویٹ ہونے والے سنیل شنکر شامل ہیں۔

ان کھیلوں میں ’تحریک نسواں‘ کی بانی ،ڈائریکٹر اور سماجی کارکن اور معروف کلاسیکل ڈانسر شیما کرمانی کا ایک پلے ’’ گاؤں میں روشنی ‘‘بھی شامل ہے جیسے انور جعفری نے لکھا ہے اور ہی اس کے معاون ڈائریکٹر بھی ہیں۔

یکم اپریل کو پیش ہونے والے اس کھیل میں ایک جانب جاگیردار ہیں جن کے پاس پیسے کی طاقت ہے اور اثر و رسوخ کا نشہ ہے تو دوسری جانب مصیبتوں میں گھری بے آسرا اور غریب عورت ہے جسے حالات کی چکی میں پیسا جارہا ہے۔

انہی ڈراموں میں ایک پشتو ڈرامہ میں بھی اسٹیج کیا جارہا ہے جسے اسے روف آفریدی نے ڈائریکٹ کیا ہے۔

جہاں تک میوزک پرفارمنس کا سوال ہے ناپا کے میوزک فیکلٹی نفیس احمد کے مطابق’’ فیسٹیول میں اس بار کئی میوزیکل پرفارمنس بھی پیش کی جائیں گی۔ ان میں سرفہرست شاعر مشرق علامہ اقبال کا ’’جواب شکوہ ‘‘ہے ۔ ظاہر ہے کہ اس کھیلے میں اقبال کا کلام بھی پیش کیا جائے گا۔

نفیس احمد کے مطابق اس میں کچھ پرفارمنس ایسی بھی رکھی گئی ہیں جن میں قوالی،پاپ میوزک بھی شامل ہوگا جبکہ جرمن اور امریکی آرٹسٹ بھی پرفارم کریں گے ۔ جرمن کوریوگرافر اور ڈانسربھی اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔

جمعرات کو پیش ہونے والی پہلی پرفارمنس جرمن آرٹسٹ بریجیل جوکا کی تھی جو ’’ ہوٹل پروپیگنڈا ‘‘ کے عنوان سے پیش کی گئی۔ جوکا کی ناپا میں یہ تیسری پرفارمنس تھی۔

فلسطینی گروپ جمعہ 18 مارچ کو پرفارمنس دے گا ۔ اس کے کھیلوں کی کہانی مختلف فلسطینی شہروں میں قائم کیمپوں میں پیش آنے والے واقعات سے متاثر ہوکر لکھی گئی ہیں ۔

نیپالی پروڈکشن کے تحت بھی ایک ڈرامہ پیش کیا جارہا ہے جسے گری گوری تھمپسن نے ڈائریکٹ کیا ہے۔ اس سے پہلے یہی کھیل لندن میں بھی اسٹیج ہو چکا ہے ۔ کراچی میں یہ چھبیس مارچ کو پیش ہوگا۔ کھیل نیپالی زبان میں ہی پیش ہوگا تاہم اس کا ترجمہ بھی ساتھ ساتھ پیش کیا جاتا رہے گا۔

زین احمد نے ایک سوال پر بتایا’’ اس بار بھی ویزا مسائل کی وجہ سے بھارت سے کسی بھی فنکار یا ڈائریکٹر کو نہیں بلوایا گیا کیوں کہ پچھلے سال ویزا مسائل پیش آئے تھے اور اس بار بھی بھارتی ڈائریکٹر، پروڈیوسر اور آرٹسٹ پاکستان نہیں آ سکے تھے۔ ان دونوں ممالک کے درمیان موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہی فیصلہ کیا گیا کہ بھارت سے کسی کو نہ بلایا جائے۔‘‘

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG