رسائی کے لنکس

ترکی کے ساحل پر کشتی ڈوبنے سے 13 پناہ گزین ہلاک


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

اُدھر پولینڈ کے وزیر خارجہ گریگورز شیتینا نے کہا ہے کہ یورپ کو پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ منصوبے کی ضرورت ہے۔

خبررساں ادارے ’روئیٹرز‘ نے ترک کوسٹ گارڈ ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ چھ بچوں سمیت تیرہ پناہ گزین ترکی کے ساحل کے قریب کشتی ڈوبنے سے ہلاک ہو گئے ہیں۔

خیال رہے کہ یہ وہی کشتی ہے جس کے بارے میں یونانی حکام نے اتوار کو کہا تھا کہ ربڑ کی کشی میں 46 سوار تھے جو یونانی جزیرے لیسبوس کی طرف جا رہی تھی اور ایک مال بردار جہاز سے ٹکرائی اور الٹ گئی۔

مرنے والوں میں چھ بچے بھی شامل ہیں جبکہ ترک ذرائع کے مطابق 20 افراد کو بچا لیا گیا۔ تیرہ لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے جبکہ بچنے والے سات افراد کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔

ان کی ملکوں کے بارے میں ابھی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

اس برس ہزاروں پناہ گزین مختصر راستے کے سمندری سفر کے بعد ترکی سے یونان پہنچے۔

گزشتہ ہفتے بھی فارمانکونیسی جزیرے کے قریب ایک کشتی الٹنے سے 34 افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں 15 بچے بھی شامل تھے۔

سمندری راستے کے علاوہ ہزاروں پناہ گزین زمینی راستے سے یورپی یونین میں داخل ہو رہے ہیں اور 28 ممالک پر مشتمل تنظیم اس بحران سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔

پولینڈ کے وزیر خارجہ گریگورز شیتینا نے کہا ہے کہ یورپ کو پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ منصوبے کی ضرورت ہے نا کہ ایسے منصوبے کی جو انفرادی ممالک کے لیے کوٹہ مقرر کرے کہ اسے کتنے لوگوں کو پناہ دینا ہو گی۔

پیر کو روزنامہ ’پولیٹیکو یورپ‘ میں ایک مضمون میں انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کی پہلی ترجیح اپنی سرحدوں کو بند کرنا ہے اور یہ کہ یونین کو پناہ گزین استقبالیہ مراکز قائم کرنے کی ضرورت ہے جو اس بات کا تعین کریں کہ کون پناہ گزین ہیں اور کون اقتصادی مواقع کے لیے اپنا وطن ترک کرکے یورپ پہنچے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پولینڈ مہاجرین کو پناہ دینے کے خلاف نہیں مگر یورپی یونین کی جانب سے 120,000 تارکین وطن کو مختلف ممالک میں تقسیم کرنے سے اس مسئلے سے پوری طرح نہیں نمٹا جا سکے گا۔

’’اس کی بجائے ہمیں ایک وسیع منصوبے پر کام کرنے کی ضرورت ہے جو بڑے پیمانے پر ہجرت کی وجوہات اور اس سے پیدا ہونے والے بحران دونوں سے نمٹے۔ اور ہمیں ضرورت مندوں کی مدد اور اپنے شہریوں کی حفاظت کے درمیان توازن قائم کی ضرورت ہے۔‘‘

انہوں نے اتوار کو نامہ نگاروں سے کہا تھا کہ سویڈن، جرمنی اور آسٹریا کو تارکین وطن کو قبول کرنے کا تجربہ حاصل ہے جبکہ یورپی یونین کے دیگر ممالک کے پاس یہ تجربہ نہیں۔

منگل کو یورپی یونین کے وزرائے داخلہ کا ایک اجلاس ہو رہا ہے جس کے بعد بدھ کو یورپی یونین کا سربراہ اجلاس ہو گا جس میں پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے کے لیے بیورپی یونین کا لائحہ عمل پر بات چیت ہو گی۔

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے مطابق اس سال 470,000 سے زائد افراد یورپ آ چکے ہیں جن میں سے 40 فیصد کے قریب شام سے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کی آمد سے یورپی ممالک تذبذب کا شکار ہیں کہ اس مسئلے کو کیسے حل کیا جائے۔

XS
SM
MD
LG