رسائی کے لنکس

ملائیشیا: غیر قانونی تارکینِ وطن کی اجتماعی قبریں دریافت


ملائیشیا اور تھائی لینڈ کی سرحد پر واقع ایک چوکی کا منظر

ملائیشیا اور تھائی لینڈ کی سرحد پر واقع ایک چوکی کا منظر

اجتماعی قبریں پولیس کے خصوصی دستوں نے دریافت کی ہیں اور خدشہ ہے کہ ان میں وہ لوگ دفن ہیں جنہیں اسمگلر غیر قانونی راستوں سے ملائیشیا لائے تھے۔

ملائیشیا میں حکام نے 30 اجتماعی قبریں دریافت کی ہیں جن میں خدشہ ہے کہ بنگلہ دیش اور برما سے غیر قانونی طور پر آنے والے تارکینِ وطن دفن ہیں۔

ملائیشیا کے وزیرِ داخلہ زاہد حامدی نے اتوار کو صحافیوں کو بتایا ہے کہ قبریں ملائیشیا اور تھائی لینڈ کی سرحد پر ان دیہات کے نزدیک دریافت ہوئی ہیں جنہیں انسانی اسمگلرسرحد پار آنے جانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

وزیرِ داخلہ نے بتایا کہ پولیس کے انسپکٹر جنرل اور دیگر اعلیٰ حکام اس علاقے میں موجود ہیں جہاں قبریں دریافت ہوئی ہیں اور ان میں موجود لاشوں کی تصدیق اور شناخت کے عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔

زاہد حامدی کے مطابق اجتماعی قبریں پولیس کے خصوصی دستوں نے دریافت کی ہیں اور خدشہ ہے کہ ان میں وہ لوگ دفن ہیں جنہیں اسمگلر غیر قانونی راستوں سے ملائیشیا لائے تھے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق قبروں میں سیکڑوں کی تعداد میں انسانی ڈھانچے دفن ہیں اور یہ اس علاقے میں دریافت ہوئی ہیں جہاں انسانی اسمگلروں نے غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے والے بنگلہ دیشی اور روہنگیا تارکینِ وطن کو رکھنے کے لیے جیلیں بنائی ہوئی تھیں۔

اپنے ملک میں غربت سے پریشان بنگلہ دیشی باشندے اور میانمار کی اکثریتی بدھ آبادی کے ہاتھوں امتیازی سلوک کا شکار روہنگیا مسلمان بہتر مستقبل کی تلاش میں غیر قانونی طریقے سے خطے کے دیگر ممالک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں جن میں سے اکثر کی کوششیں ناکامی سے دوچار ہوتی ہیں۔

یہ پہلا موقع ہے کہ ملائیشیا میں یہ قبریں دریافت ہوئی ہیں جہاں کے حکام اس سے قبل اپنی سرزمین پر انسانی اسمگلروں کی غیر قانونی جیلوں اور تارکینِ وطن کی اجتماعی قبروں کی موجودگی کی تردید کرتے آئے ہیں۔

اس سے قبل رواں ماہ تھائی لینڈ میں بھی تارکینِ وطن کی ایسی ہی جیلوں اور اجتماعی قبروں کی موجودگی کا انکشاف ہوا تھا جن میں دفن اکثر افراد کا تعلق بنگلہ دیش اور میانمار کی مسلمان اقلیت سے ہونے کا شبہ ہے۔

XS
SM
MD
LG