رسائی کے لنکس

فاکس نیوز کے مطابق یہ خاتون قدرتی طور پر درد محسوس کرنے کی صلاحیت سے محروم پیدا ہوئی تھی لیکن زندگی کے تقریباً چار عشرے گزرنے کے بعد انھوں نے پہلی بار درد کو اس وقت محسوس کیا جب محققین نے انھیں لیزر سے جلا کر ایک زخم دیا۔

ایک 39 سالہ خاتون نے اپنی زندگی میں درد کو پہلی بار محسوس کیا ہے اور ان کو یہ چوٹ پہنچانے والے ان کے دشمن نہیں بلکہ مہربان سائنس دان ہیں۔

نیلوکسون نامی دوا نشہ آور اشیاء ہیروئین یا مارفین دوا کی زیادہ مقدار لینے والے لوگوں کے علاج میں استعمال کی جاتی ہے لیکن اس دوا کے استعمال سے ایک انتالیس سالہ خاتون نے اپنی زندگی میں پہلی بار چوٹ کی تکلیف کو محسوس کیا ہے۔

فاکس نیوز کے مطابق یہ خاتون قدرتی طور پر درد محسوس کرنے کی صلاحیت سے محروم پیدا ہوئی تھی لیکن زندگی کے تقریباً چار عشرے گزرنے کے بعد انھوں نے پہلی بار درد کو اس وقت محسوس کیا جب محققین نے انھیں لیزر سے جلا کر ایک زخم دیا۔

محقق جان وڈ نے کہا کہ یہ ناصرف خاتون کے لیے اچھی خبر ہے بلکہ دائمی درد میں مبتلا لوگوں کے لیے بھی امید کی ایک کرن ہو سکتی ہے۔

دنیا میں بہت قلیل تعداد میں لوگ قدرتی طور پر درد محسوس کرنے کی صلاحیت سے محرومی کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں کیونکہ ان کے جسم میں نیو 1.7 چینلز کی کمی ہوتی ہے۔

Nav 1.7 چینلز (ایک وولٹیج مسدود سوڈیم چینل ہے، جو نسل در نسل الیکٹریکل سگنلنگ کی منتقلی کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے یہ درد محسوس کرنے والے اعصاب سے قریب موجود ہوتا ہے)۔

اور جب محققین نے جینیاتی طور پر ان چینلز کے بغیر پیدا ہونے والے چوہوں پر تحقیقات کیں تو سائنس دانوں کو پتا چلا کہ ان کے جسم میں درد کش اوپی اوڈ پیپٹائڈس (پروٹین مالیکیول) کی زیادہ پیداوار تھی۔

Opioid peptide پروٹین کے چھوٹے مالیکیول ہیں،جو قدرتی طور پر مرکزی اعصابی نظام اور جسم کے غدودوں میں پیدا ہوتے ہیں ہیپٹائڈس ہارمون کے طور پر بھی کام کرتا ہے)۔

ایک تجربے کے دوران محقق وڈ نے اندازا لگایا کہ نیلوکسون دوا جو ہیروئین یا مارفین کی زیادہ مقدار لینے والے مریضوں کے علاج میں استعمال کی جاتی ہے یہ دوا اعصابی نظام میں اوپی اوڈ پیپٹا ئڈس پروٹین کو روکتی ہے اورمریضوں کو سکون کی دنیا سے اصل دنیا میں لا پھینکتی ہے ۔

یہی دوا درد محسوس کرنے کی صلاحیت سے محروم افراد کی زندگیاں تبدیل کر سکتی ہے اور ان میں تکلیف کا احساس جگا سکتی ہے۔

سائنس دان جان وڈ کا یہ تجربہ کامیاب رہا ہے، جس کے نتائج انھوں نے جمعہ کو شائع ہونے والے ایک سائنسی رسالے' نیچر کمیونیکیشن' میں شائع کئے ہیں۔

خاتون نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ پیش رفت ان کے بچوں کے علاج کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے اگر ان کے بچے بھی ان کی طرح جینیاتی طور پر درد محسوس کرنے کی صلاحیت سے محروم پیدا ہوتے ہیں۔

ایک مطالعے میں یہاں تک بتایا گیا تھا کہ درد محسوس کرنے کی صلاحیت سے محروم پیدا ہونے والے بچے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو بھی چبا ڈالتے ہیں جس سے ان کا خون تو بہتا ہے لیکن درد کا احساس پھر بھی نہیں جاگتا ہے۔

XS
SM
MD
LG