رسائی کے لنکس

نائیجیریا میں بھوک سے ہزاروں بچے ہلاک


ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے اس ابتر صورتحال کے بارے میں پہلے پہل جون میں متنبہ کیا تھا لیکن ان کیمپوں کے منتظمین کا یہ موقف رہا کہ یہاں کوئی بچہ بھی غذائی کمی کے باعث فوت نہیں ہوا۔

نائیجیریا میں بھوک اور بیماریوں کے باعث ہزاروں بچے موت کا شکار ہو چکے ہیں اور ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ اگر فوری طور پر اقدام نہ کیے گئے تو ایک سال میں 75 ہزار بچے جان کی بازی ہار سکتے ہیں۔

طبی امداد کی ایک موقر بین الاقوامی تنظیم "ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز" کی طرف سے کیے گئے ایک تازہ جائزے میں بتایا گیا کہ "ہر روز ہزاروں بچے موت کا شکار ہو رہے ہیں" اور اسے امید ہے کہ حکام اس المیے کا ادراک کرتے ہوئے ہنگامی بنیادی پر اقدام کریں گے۔

تنظیم کی عہدیدار نتالیا رابرٹس نے امریکی خبر رساں ایجنسی "ایسوسی ایٹڈ پریس" کو بتایا کہ اس سے قبل کہ بڑی عمر کے بچے بھی اس مسئلے سے دوچار ہو کر موت کا شکار ہوں، ہنگامی اقدام کیے جانا ضروری ہے۔

میدوگوری شہر کے شمال مشرق میں واقع دو پناہ گزین کیمپوں کے جائزے سے پتا چلتا ہے کہ یہاں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی ایک چوتھائی تعداد لاپتا ہے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ انتقال کر چکے ہیں۔

نتالیا کے بقول شمال مشرقی نائیجیریا میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی شرح اموات اس شرح سے دو گنا زیادہ ہے جو اس ضمن میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کے لیے متعین کی گئی ہے۔

وہ حال ہی میں بورنو ریاست سے واپس آئی ہیں جو کہ شدت پسند گروپ بوکو حرام کی عسکریت پسندی سے بری طرح متاثر ہوچکی ہے۔

انھوں نے کہا کہ "ہم نے صرف بڑے بھائی بہن دیکھے، کوئی نو عمر بچہ نہیں تھا۔"

ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے اس ابتر صورتحال کے بارے میں پہلے پہل جون میں متنبہ کیا تھا لیکن ان کیمپوں کے منتظمین کا یہ موقف رہا کہ یہاں کوئی بچہ بھی غذائی کمی کے باعث فوت نہیں ہوا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس یہاں کے ایسے بچوں کی تصویریں بھی شائع کر چکا ہے جو "ماچس کی تیلی" جیسے پتلے تھے۔

تاہم نتالیا نے بتایا کہ اب حکومت کو اس معاملے کی سنگینی کا ادراک ہو چلا ہے۔

اقوام متحدہ یہ کہہ چکا ہے کہ اس کے پاس نائیجیریا میں بھوک اور غذائی قلت سے نمٹنے کے لیے فنڈز کی کمی اور اس معاملے سے آئندہ سال تک نمٹنے کے لیے ایک ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ لیکن اس کی عدم دستیابی کے باعث 75 ہزار بچے موت کا شکار ہو جائیں گے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG