رسائی کے لنکس

سعودی عرب میں پھنسے پاکستانیوں کا معاملہ حل کرنے کی ہدایت


فائل فوٹو

فائل فوٹو

لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی روزگار کے سلسلے میں عرب اور خلیجی ریاستوں میں مقیم ہیں لیکن اکثر ایسی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں کہ جن میں ان ملازمین سے اپنے مالکوں یا ان کی کمپنیوں کی طرف سے مبینہ طور ناروا سلوک کی شکایت کی جاتی ہے۔

سعودی عرب میں اپنی آجر کمپنیوں کی طرف سے کئی ماہ کی تنخواہ نہ ملنے کے باعث پھنسے ہزاروں پاکستانیوں کی حالت زار کا نوٹس لیتے ہوئے پاکستانی وزیراعظم نے ریاض میں پاکستانی سفارتخانے کو یہ معاملہ ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

سعودی اوگر لمیٹڈ کے آٹھ ہزار جب کہ السعد ٹریڈنگ اینڈ کنٹریکٹنگ کمپنی کے لیے کام کرنے والے 520 پاکستانی ملازمین کئی ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہونے کے علاوہ دوران ملازمت ملنے والی دیگر سہولتیں بھی کھو چکے ہیں۔

اس بنا پر یہ لوگ مختلف کیمپوں میں مقیم ہیں اور ان کی طرف سے حکومت پاکستان سے مدد کی اپیلیں بھی کی جاتی رہی ہیں۔

منگل کو دفتر خارجہ سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ پاکستانی سفیر سعودی عرب میں نائب وزیرخارجہ، وزیر انصاف، وزیر محنت اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں سے رابطے میں ہیں جب کہ سفارتخانے کے کارکنان نے دمام میں ان کیمپوں کا دورہ کر کے وہاں موجود لوگوں میں خوراک بھی تقسیم کی ہے۔

بیان کے مطابق یہ کمپنیاں تسلیم کرتی ہیں کہ ملازمین کو تنخواہیں نہیں دی گئی اور وہ اس سے انکار نہیں کرتیں لیکن اپنی خراب مالی حالت کے باعث وہ ایسا کرنے سے قاصر ہیں۔

السعد ٹریڈنگ کے پاکستانی ملازمین مشرقی خطے میں تین مختلف کیمپوں میں مقیم ہیں جب کہ سعودی اوگر کے لیے کام کرنے والے آٹھ ہزار میں سے صرف 20 فیصد ہی اپنے طور پر کہیں رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں اور دیگر اکثریت ریاض، دمام، جدہ، طائف اور مکہ کے علاقوں میں قائم کیمپوں میں مقیم ہے۔

پاکستانی دفترخارجہ کے مطابق سعودی عرب کے فرمانروا نے سعودی اوگر کمپنی کو ملازمین کے معاملات فوری طور پر حل کرنے کا حکم دیا ہے۔

لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی روزگار کے سلسلے میں عرب اور خلیجی ریاستوں میں مقیم ہیں لیکن اکثر ایسی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں کہ جن میں ان ملازمین سے اپنے مالکوں یا ان کی کمپنیوں کی طرف سے مبینہ طور ناروا سلوک کی شکایت کی جاتی ہے۔

سعودی عرب کی معیشت کا دارومدار تیل کی پیدوار پر ہے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیرمعمولی کمی سے اس کی معیشت متاثر ہوئی ہے۔

سینیئر تجزیہ کار پروفیسر حسن عسکری رضوی نے منگل کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ سعودی عرب میں پھنسے پاکستانیوں کی مدد حکومت کی ذمہ داری ہے اور اسے کوشش کرنی چاہیے کہ ان لوگوں کا روزگار وہیں بحال ہو سکے۔

"پاکستان کی اقتصادی صورتحال ایسی ہے کہ وہ ان کا بوجھ برداشت نہیں کر سکے گی، میرا خیال ہے کہ پاکستانی حکومت کے مفاد میں یہی ہے کہ وہ ان کے معاملات کو طے کروا کے وہاں حکومت سے بات کر کے ان کی نوکریاں جاری کروا دے۔"

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق ریاض میں سفارتخانے کو ہدایت کر دی گئی ہے کہ وہ متاثرہ پاکستانیوں کو خوراک، ادویہ اور دیگر سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اقدام کرے اور ایسے پاکستانی جو واپس آنا چاہتے ہیں انھیں بھی معاونت فراہم کی جائے۔

XS
SM
MD
LG