رسائی کے لنکس

اُردن نے رواں برس جون میں اس وقت اپنی سرحد کو شامی پناہ گزینوں کے لیے بند کر دیا تھا جب داعش کے جنگجوؤں نے اردن کے سات فوجیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

اقوام ِمتحدہ کا کہنا ہے کہ اردن اور شام کی سرحد پر واقع شام کے ہزاروں بے یارو مددگار پناہ گزین کیمپوں تک امدادی سامان پہنچانے کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔

یہ پناہ گزین شام کی اردن کے ساتھ لگنے والے سرحد کے آس پاس مختلف جگہوں پر رہ رہے ہیں۔

اُردن نے رواں برس جون میں اس وقت اپنی سرحد کو شامی پناہ گزینوں کے لیے بند کر دیا تھا جب داعش کے جنگجوؤں نے اردن کے سات فوجیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

تب سے لے کر اب تک اردن نے اپنی سرحد سے شام کی خانہ جنگی سے بدحال اور پریشان ہزاروں پناہ گزینوں تک صرف ایک مرتبہ اگست میں امداد جانے کی اجازت دی تھی۔

منگل کے روز اردن کی جانب سے سرحد پر موجود شامی پناہ گزینوں کی امداد کو کھولنے کا اعلان کیا گیا۔ یہ امداد 85 ہزار افراد تک پہنچے گی جس میں سے نصف تعداد بچوں کی ہے جو اردن اور شام کی سرحد پر کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور جن کی رسائی زندگی کی بنیادی ضروریات تک نہیں ہے۔

اقوام ِمتحدہ کے اداروں کو اب تک اردن کی سرحد پر موجود شامی پناہ گزینوں کی حالت ِزار کے بارے میں کچھ واضح طور پر معلوم نہیں ہے مگر اقوام ِمتحدہ کے بچوں سے متعلق فنڈ کے ترجمان کرسٹوفر بولیرک کا کہنا ہے کہ ان کی ایجنسی کے پاس ایسی غیر تصدیق شدہ معلومات ہیں جس کے مطابق ان پناہ گزین کیمپوں میں موجود بچے اور خواتین خوراک کی کمی کے باعث مختلف امراض کا شکار ہو رہے ہیں۔

کرسٹوفر بولیرک کا کہنا ہے کہ، ’ان کیمپوں میں 2 سے 3 فیصد بچے معذور ہیں جبکہ بہت سے بچے ایسے بھی ہیں جو اپنے خاندانوں سے بچھڑ چکے ہیں۔ یونیسف ان بچوں کی صحت کے بارے میں تشویش کا شکار ہے۔ آنے والے دنوں میں سردی بڑھ جائے گی اور بچوں کو بڑھتی سردی اور ناکافی سہولیات کی وجہ سے کئی بیماریاں لاحق ہونے کا خدشہ ہے‘۔

اردن اور شام کی سرحد پر درجہ ِحرارت نیچے گرتا جا رہا ہے اور سردی زور پکڑ رہی ہے۔ یونیسف گذشتہ چند ماہ سے باقاعدگی سے پناہ گزینوں تک صاف پانی پہنچانے کا انتظام کرتی رہی ہے۔

منگل کے روز پناہ گزینوں کے لیے امداد کھولنے کے اعلان کے بعد یونیسف نے بچوں کے لیے گرم کپڑے اور روزمرہ استعمال ہونے والی اشیاء پہنچائی ہیں۔ جبکہ آنے والے دنوں میں ان پناہ گزینوں کے لیے خوراک پہنچانے کا بندوبست بھی کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG