رسائی کے لنکس

نیپال: نئے آئین کے خلاف حزب اختلاف کا احتجاج


کھٹمنڈو میں ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے کا منظر

کھٹمنڈو میں ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے کا منظر

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں ایک درجن سے زائد مظاہرین زخمی ہوئے ہیں۔

نیپال میں حکومت کی جانب سے نئے آئین کو پارلیمان سے منظور کرانے کی کوششوں کے خلاف ہزاروں افراد نے احتجاج کیا ہے۔

ہفتے کو ملک بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی اپیل حزب اختلاف کی 30 جماعتوں پر مشتمل اتحاد نے دی تھی جو مجوزہ آئین پر قومی اتفاق رائے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

اتحاد کی اپیل پر ہفتے کو دارالحکومت کھٹمنڈو میں کئی مقامات سے جلوس برآمد ہوئے جو تودی خیل کرکٹ گراؤنڈ پر اختتام پذیر ہوئے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق ایک جلوس کے شرکا نے دارالحکومت کے ایک ممنوعہ علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر ان کی پولیس کے ساتھ ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشرکرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی۔

حکام کے مطابق مظاہرین کے ایک گروہ نے پارلیمان کی عمارت میں بھی داخل ہونے کی کوشش کی جسے پولیس نے ناکام بنادیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں ایک درجن سے زائد مظاہرین زخمی ہوئے ہیں۔

نیپال میں ماؤ نواز باغیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان 10 سال تک جاری رہنے والی خانہ جنگی 2006 میں ختم ہوئی تھی جس میں 17 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد سے نیپال کی سیاسی جماعتیں متفقہ آئین تیار کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جو باہمی اختلافات کےباعث اب تک نہیں بن پایا ہے۔

سیاسی جماعتوں کے درمیان بڑی وجہ نزاع نسلی بنیادوں پر نئے صوبوں کی تشکیل ہے جس کا مطالبہ سابق باغی کر رہے ہیں۔

لیکن بائیں بازو کے حکمران اتحاد کا موقف ہے کہ نسلی بنیادوں پر صوبوں کی تقسیم سے معاشرے میں کشیدگی اور تفریق میں اضافہ ہوگا۔

اختلافات دور نہ ہونے کے باعث نیپالی حکومت اب نئے آئین کو اپنی عددی اکثریت کی بنیاد پر پارلیمان سے منظور کرانا چاہ رہی ہے جس کی حزب اختلاف کی جماعتیں مخالفت کر رہی ہیں۔

XS
SM
MD
LG