رسائی کے لنکس

آسٹریا: تارکینِ وطن کی 71 لاشوں کی برآمدگی کے بعد گرفتاریاں


لاشوں کو آسٹریا کے مختلف شہروں میں موجود سرد خانوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

لاشوں کو آسٹریا کے مختلف شہروں میں موجود سرد خانوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

آسٹرین صوبے برگن لینڈ کے پولیس سربراہ کے مطابق ٹرک سے برآمد ہونے والی لاشوں کی تعداد 71 ہے جن میں 59 مرد، آٹھ خواتین اور چار بچے شامل ہیں۔

آسٹریا میں پولیس نے گزشتہ روز ایک ٹرک سے برآمد ہونے والی تارکینِ وطن کی 70 سے زائد لاشوں کے معاملے کی تفتیش کے سلسلے میں تین افراد کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

حکام نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ گرفتاریاں جمعے کی صبح ہنگری سے کی گئی ہیں جن میں مبینہ طور پر ٹرک کا مالک اور اس کا ڈرائیور بھی شامل ہیں۔ گرفتار ہونے والوں میں سے دو کا تعلق بلغاریہ جب کہ ایک کا ہنگری سے ہے۔

ہنگری کے پولیس حکام نے ایک مشتبہ افغان شہری کو بھی گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جب کہ مختلف گھروں پر چھاپوں کے دوران 20 سے زائد مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی گئی ہے۔

لاشوں کی برآمدگی کے بعد ہنگری اور آسٹریا دونوں ملکوں کے حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور دونوں حکومتوں نے ذمہ داران کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

اس سے قبل آسٹرین پولیس نے اعلان کیا تھا کہ جمعرات کو ایک ہائی وے کے کنارے کھڑے ٹرک سے ملنے والی لاشوں کی تعداد 71 ہے۔

جمعرات کو ٹرک کی برآمدگی کے وقت حکام نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اس کے پچھلے حصے میں 20 سے 50 لاشیں موجود ہیں جن کی خراب حالت کے باعث درست تعداد کا فوری تعین ممکن نہیں تھا۔

لیکن آسٹرین صوبے برگن لینڈ کے پولیس سربراہ ہینس پیٹر ڈوسکوزل نے جمعے کو صحافیوں کو بتایا کہ ٹرک سے برآمد ہونے والی لاشوں کی تعداد 71 ہے جن میں 59 مرد، آٹھ خواتین اور چار بچے شامل ہیں۔

پولیس سربراہ نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہورہا ہے کہ ٹرک کے پچھلے حصے میں گنجائش سے زائد لوگ بھرے گئے تھے جس کےباعث تمام افراد دم گھٹنے سے ہلاک ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ بعض لاشوں سے شام کی سفری دستاویزات برآمد ہوئی ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان تمام یا ان میں سے کچھ افراد کا تعلق شام سے تھا جو وہاں کی خانہ جنگی سے بچ کر یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

مذکورہ ٹرک ہنگری کی سرحد کے نزدیک واقع آسٹرین قصبے پونڈروف کے نزدیک ایک مرکزی شاہراہ کے کنارے بدھ سے کھڑا تھا۔

پولیس حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جمعرات کو علاقے میں گشت پر مامور اہلکاروں کے ٹرک تک پہنچنے سے دو روز قبل ہی تمام افراد کی موت واقع ہوچکی تھی اور ٹرک کے پچھلے حصے میں ہوا کا گزر نہ ہونے کے باعث لاشیں انتہائی خراب حالت میں تھیں۔

حکام کا کہناہے کہ رواں سال اب تک ایک لاکھ غیر قانونی تارکینِ وطن بلقان کے ملکوں سربیا اور میسی ڈونیا کے راستے یورپ میں داخل ہوچکے ہیں جن کی اکثریت اسمگلروں کو منہ مانگے پیسے دے کر سرحد پار کرتی ہے۔

یہ افراد ہنگری سے ہوتے ہوئے یورپ کے 'شینگن ایریا' میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں جہاں سفری دستاویزات کے بغیر رکن ملکوں کے درمیان سفر کیا جاسکتا ہے۔

ان غیر قانونی تارکینِ وطن کی اکثریت آسٹریا اور جرمنی جیسے نسبتاً امیر ملکوں تک پہنچنے کےلیے ہر ممکن ذرائع اور راستے استعمال کر رہی ہے جس نے راستے میں پڑنے والے ملکوں کے لیے مشکلات کھڑی کردی ہیں۔

مہاجرین کے امور کے نگران اقوامِ متحدہ کے ادارے 'یو این ایچ سی آر' نے جمعے کو اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ رواں سال اب تک بحیرۂ احمر کے راستے یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے غیر قانونی تارکینِ وطن کی تعداد تین لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے جو گزشتہ سال کی کل تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔

گزشتہ پورےسال کے دوران کل دو لاکھ 19 ہزار غیر قانونی تارکینِ وطن خستہ حال کشتیوں پر سوار ہو کر بحیرۂ احمر کے راستے یورپ پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

ان افراد کی اکثریت کا تعلق افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے جنگ زدہ اور بحرانوں کا شکار ملکوں سے ہے جو بہتر مستقبل کی تلاش میں جان جوکھم میں ڈال کر یورپ کا رخ کرتے ہیں۔

آسٹریا کی حکومت یورپی یونین سے مسلسل مطالبہ کر رہی ہے کہ ان تارکینِ وطن کو روکنے کے لیے سرحدوں پر حفاظتی انتظامات سخت کرنے کے بجائے انہیں قانونی داخلہ دینے کا طریقہ کار وضع کیا جائے تاکہ یہ افراد انسانی اسمگلروں کے ہتھے نہ چڑھیں۔

لیکن 28 رکنی یورپی یونین کے رکن ممالک میں اب تک ان تارکینِ وطن کی آمد سے نبٹنے کے طریقہ کار اور رکن ملکوں کے درمیان انہیں پناہ دینے کا کوٹہ مختص کرنے کے معاملات پر اتفاق نہیں ہوسکا ہے۔

XS
SM
MD
LG